سمندر ، سیاہی اور درخت قلم: علمِ الٰہی کے بحرِ بیکراں کے سامنے انسانی بے بسی
قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا
ترجمہ: "(اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم!) فرما دیجئے: اگر سمندر میرے رب کے کلمات کے لئے سیاہی بن جائے تو وہ سمندر میرے رب کے کلمات کے ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجائے گا اگرچہ ہم اس کی مثل اور (سمندر بھی) مدد کے لئے لے آئیں۔" — (سورہ الکہف: 109)
وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
ترجمہ: "اور اگر زمین میں جتنے درخت ہیں (سب) قلم بن جائیں اور سمندر (سیاہی بن جائے) اس کے بعد سات اور سمندر اسے بڑھاتے چلے جائیں تو (بھی) اﷲ کے کلمات ختم نہیں ہوں گے۔ بیشک اﷲ غالب ہے حکمت والا ہے۔" — (سورہ لقمان: 27)
قرآنِ حکیم کی یہ عظیم آیات انسانی شعور کو جھنجھوڑنے اور خالق کی عظمت کا احساس دلانے کے لیے ایک ایسی بے مثال تمثیل پیش کرتی ہیں جس کا تصور ہی انسانی عقل کو دنگ کر دیتا ہے۔ یہ آیات چیلنج کرتی ہیں کہ اگر روئے زمین کے تمام جنگلات کے درخت قلم بن جائیں، اور دنیا کے سارے سمندر سیاہی میں بدل جائیں، اور پھر ایسے ہی سات مزید سمندر سیاہی کے طور پر لائے جائیں، تب بھی اللہ تعالیٰ کی تخلیقات، اس کی حکمتوں، اس کے قوانین اور اس کے علم کو احاطہ تحریر میں نہیں لایا جا سکتا۔ سیاہی خشک ہو جائے گی، قلم گھس جائیں گے، مگر رب کے کلمات کبھی ختم نہ ہوں گے۔
آج اکیسویں صدی میں، جب انسان سائنس اور ٹیکنالوجی کی معراج پر ہے، یہ آیات پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ اپنی سچائی کا ثبوت دے رہی ہیں۔ آئیے، جدید سائنس کی دوربین سے اس کائنات پر ایک نظر ڈالتے ہیں تاکہ اندازہ ہو سکے کہ وہ کون سے "کلماتِ ربی" ہیں جنہیں لکھنے کے لیے سمندر ناکافی ہیں۔
کائنات کی وسعت: گنتی سے باہر کہکشائیں
ہماری زمین ایک بہت بڑے نظامِ شمسی کا چھوٹا سا حصہ ہے، اور ہمارا سورج ہماری کہکشاں "ملکی وے" (Milky Way) کے اربوں ستاروں میں سے صرف ایک اوسط درجے کا ستارہ ہے۔ جدید فلکیات نے کائنات کی جو وسعت ہمارے سامنے رکھی ہے وہ ہوش اڑا دینے والی ہے۔ ناسا (NASA) اور دیگر خلائی تحقیقی اداروں کے مطابق، قابلِ مشاہدہ کائنات (Observable Universe) میں کہکشاؤں (Galaxies) کی تعداد کا اندازہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
- کہکشاؤں کی تعداد: کچھ عرصہ پہلے تک یہ اندازہ تھا کہ کائنات میں تقریباً 200 ارب کہکشائیں ہیں۔ تاہم، ہبل اسپیس ٹیلی سکوپ اور دیگر جدید ذرائع سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر 2016 میں ہونے والی تحقیق (Conselice et al.) نے یہ ہوشربا انکشاف کیا کہ قابلِ مشاہدہ کائنات میں کہکشاؤں کی تعداد 2 ٹریلین (2,000 ارب) تک ہو سکتی ہے۔
- ستاروں کی گنتی: ہر کہکشاں میں کروڑوں سے لے کر کھربوں ستارے ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق کائنات میں ستاروں کی تعداد، روئے زمین پر موجود تمام ساحلوں کی ریت کے ذروں سے بھی زیادہ۔
ذرا سوچئے! اگر سات سمندروں کی سیاہی سے صرف ان 2 ٹریلین کہکشاؤں اور ان کھربوں ستاروں کے نام، ان کا محلِ وقوع، ان کی کیمیائی ساخت اور ان پر لاگو ہونے والے طبیعیاتی قوانین کو لکھنا شروع کیا جائے، تو کیا یہ سیاہی کافی ہوگی؟ یقیناً نہیں۔ اور یہ تو صرف "قابلِ مشاہدہ" کائنات ہے، اس سے آگے کیا ہے، یہ صرف اللہ جانتا ہے۔
خوردبینی کائنات: ایک سیل میں چھپا کتب خانہ
علمِ الٰہی کی وسعت صرف ستاروں تک محدود نہیں، بلکہ ایک خوردبینی ذرے میں بھی پنہاں ہے۔ انسانی جسم کی مثال لیں۔ ایک اوسط انسانی جسم میں تقریباً 37 ٹریلین خلیات (Cells) ہوتے ہیں۔ ہر خلیے کے مرکز میں ڈی این اے (DNA) موجود ہے جو زندگی کی کتاب ہے۔ جدید جینیات (Genetics) ہمیں بتاتی ہے کہ ایک انسانی خلیے کے DNA میں تقریباً 3 ارب جینیاتی حروف (Base Pairs) کا کوڈ موجود ہوتا ہے۔ اگر صرف ایک خلیے میں موجود اس معلومات کو کتابوں میں لکھا جائے تو ہزاروں صفحات پر مشتمل کئی ضخیم جلدیں تیار ہو جائیں گی۔
یہ پیچیدہ ترین کوڈنگ کس نے کی؟ ان خلیات کو کیسے معلوم ہوتا ہے کہ کب تقسیم ہونا ہے اور کب رک جانا ہے؟ ایک مکھی کے پر سے لے کر وہیل مچھلی کے دماغ تک، ہر تخلیق کے پیچھے حکمت اور علم کا ایک ایسا سمندر ہے جسے لکھنے کے لیے دنیا کے سارے قلم ناکافی ہیں۔
انسانی علم کا سیلاب بمقابلہ علمِ الٰہی
آج کا انسان فخر کرتا ہے کہ ہم "ڈیٹا کے دور" (Age of Data) میں جی رہے ہیں۔ ہمارے کمپیوٹرز نے معلومات کا سیلاب برپا کر دیا ہے۔
- ڈیٹا کا حجم: انٹرنیشنل ڈیٹا کارپوریشن (IDC) کے اندازوں کے مطابق، سال 2025 تک دنیا بھر میں تخلیق ہونے والے ڈیجیٹل ڈیٹا کا کل حجم تقریباً 175 زیٹا بائٹس (Zettabytes) تک پہنچ جائے گا۔
یہ ڈیٹا اتنا زیادہ ہے کہ اگر اسے پرانی ڈی وی ڈیز (DVDs) پر سٹور کرکے ایک کے اوپر ایک رکھا جائے تو یہ مینار زمین سے چاند تک پہنچ جائے گا، اور ایسا کئی بار ہوگا۔ بظاہر یہ علم کا بہت بڑا ذخیرہ ہے، لیکن حقیقت کیا ہے؟ یہ سارا ڈیٹا، یہ ساری سائنسی تحقیقات، یہ اربوں کتابیں—یہ سب مل کر بھی صرف اس کائنات کے "ظاہر" کو بیان کرنے کی ایک ادھوری کوشش ہے۔ انسان صرف دریافت کرتا ہے، تخلیق نہیں کرتا۔
حاصلِ کلام
سائنس کی ہر نئی دریافت دراصل قرآن کے اس دعوے کی تصدیق کرتی ہے کہ انسان کا علم انتہائی محدود ہے۔ ہم جتنا زیادہ جانتے ہیں، اتنا ہی ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم کتنا کم جانتے ہیں۔ جب روئے زمین کے تمام درخت قلم بن کر اور تمام سمندر سیاہی بن کر صرف اس کائنات کی مخلوقات کی فہرست اور ان کے بنیادی افعال کو مکمل طور پر تحریر نہیں کر سکتے، تو پھر اس خالقِ حقیقی کی لامحدود صفات، اس کی ازلی و ابدی حکمتوں اور اس کے علمِ غیب کا احاطہ کیسے ممکن ہے؟ یہ آیات محض شاعرانہ مبالغہ نہیں، بلکہ ایک ٹھوس حقیقت کا بیان ہیں کہ اللہ کا علم لا محدود ہے، اور ساری مخلوق کا علم مل کر بھی اس کے سامنے سمندر میں ایک قطرے کی حیثیت بھی نہیں رکھتا۔
حوالہ جات (References):
- قرآنِ مجید، سورہ الکہف، آیت 109۔
- قرآنِ مجید، سورہ لقمان، آیت 27۔
- Conselice, C. J., et al. (2016). "The Evolution of Galaxy Number Density at z < 8". The Astrophysical Journal.
- International Data Corporation (IDC), "Worldwide Global DataSphere Forecast, 2021–2025".
- National Human Genome Research Institute (NHGRI), "DNA Fact Sheet".
#علم_الٰہی #اللہ_کی_قدرت #قرآن_حکیم #سورہ_کہف #سورہ_لقمان #کلمات_ربی #سمندر_روشنائی #درخت_قلم #سائنس_اور_اسلام #کائنات #سبحان_اللہ #KnowledgeOfAllah #DivineKnowledge #Infinity #ScienceAndIslam #Universe #Galaxies #SubhanAllah #SurahKahf109 #CreationOfAllah #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔


very nice
جواب دیںحذف کریںماشاء اللہ ۔ اللہ کی طاقت کی کوئی حد نہیں ۔ وہ بے شک بہت عظیم ہے.
جواب دیںحذف کریں