عبدالسلام عارف کے دعووں کا سائنسی و مذہبی رد: قسط وار محاکمہ
قسط نمبر 5: سمارٹ فونز، انٹرنیٹ اور مائیکرو چپس "دجالی سسٹم" کے آلات ہیں؟
مؤلف : طارق اقبال سوہدروی
عبدالسلام عارف صاحب اکثر اپنے بیانات میں یہ بات دہراتے ہیں کہ سمارٹ فونز، انٹرنیٹ، مائیکرو چپس اور آج کی جدید ٹیکنالوجی دراصل دجال کے نظام کے حصے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ سب چیزیں قدیم روایات میں اشاروں سے بتائی گئی تھیں اور ان کا اصل مقصد لوگوں کو دجال کی طرف لے جانا ہے۔ یہ دعویٰ سننے میں بہت دلچسپ اور سنسنی خیز لگتا ہے کیونکہ آج ہر شخص کے ہاتھ میں فون ہے اور انٹرنیٹ ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔
مگر جب ہم اس دعوے کو احادیثِ نبوی ﷺ، اسلامی اصولوں اور عام منطق کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ دعویٰ ایک بڑی غلط فہمی پر مبنی ہے۔ ایجادات خود بخود شیطانی یا دجالی نہیں ہوتیں۔ ان کا استعمال "اچھا" یا "برا" ہونا سراسر انسان کے اپنے اختیار پر منحصر ہے۔
دعوے کا تفصیلی جائزہ
عارف صاحب کے بیانات کے مطابق:
- سمارٹ فون اور انٹرنیٹ لوگوں کو ایک ایسے عالمی نظام سے جوڑ رہے ہیں جو دجال کا حصہ ہے۔
- مائیکرو چپس (خرد تراشے) جسم میں لگانے کا ذکر بھی دجال کے فتنے سے جوڑا جاتا ہے۔
- ان تمام چیزوں کو قدیم احادیث میں بیان کردہ "دجالی نشانات" کی طرف اشارہ قرار دیا جاتا ہے۔
یہ نظریہ دراصل جدید ٹیکنالوجی کو براہِ راست غیبی پیش گوئیوں پر زبردستی منطبق کرنے کی ایک کوشش ہے۔
احادیثِ نبوی ﷺ اور مذہبی سیاق و سباق
احادیثِ مبارکہ میں دجال کے بارے میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے، وہ ایک مخصوص انسانی شخصیت سے متعلق ہے۔ مثال کے طور پر صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں دجال کی علامات جیسے: ایک آنکھ کا کانا ہونا، ماتھے پر "کافر" لکھا ہونا اور اس کا کھانا پینا وغیرہ، یہ سب ایک جیتی جاگتی انسانی شخصیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
دجال کا فتنہ آخر الزمان کا ایک بہت بڑا امتحان ہے، مگر احادیث میں کہیں بھی سمارٹ فون، انٹرنیٹ یا مائیکرو چپس کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ ان ایجادات کو زبردستی دجال سے جوڑنا "تفسیر بالرائے" (اپنی مرضی کی تشریح) ہے، جسے علمائے کرام اور محدثین نے ہمیشہ ناپسند کیا ہے۔
سائنسی، منطقی اور عملی جائزہ
ٹیکنالوجی (تکنیکی علم) بذاتِ خود کوئی ذاتی ارادہ یا نیت نہیں رکھتی۔ یہ محض ایک "آلہ" ہے جسے انسان جیسا چاہے استعمال کر سکتا ہے۔ اس کی مثال ایک "چھری" کی سی ہے؛ اس سے آپ چاہیں تو پھل کاٹیں یا کسی کا گلا، یہ آپ کے ارادے پر ہے۔ چھری خود بخود نہ تو اچھی ہے اور نہ ہی بری۔
اسی طرح سمارٹ فون، انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت (AI) بھی محض ٹولز ہیں۔ ان کے ذریعے آپ:
- قرآنِ پاک پڑھ سکتے ہیں اور اس کی ترویج کر سکتے ہیں۔
- علمی و تحقیقی مواد حاصل کر سکتے ہیں۔
- لوگوں تک دینِ حق کی بات پہنچا سکتے ہیں۔
غور طلب بات یہ ہے کہ آپ ابھی یہ اسلامی پوسٹ بھی اسی موبائل، انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی پڑھ رہے ہیں۔ اگر یہ سب چیزیں "دجالی" ہوتیں، تو یہ کیسے ممکن تھا کہ ہم انہی آلات سے قرآن و سنت کی بات عام کر رہے ہوتے؟ یہ ایجادات دراصل اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اس ذہانت کا نتیجہ ہیں جو انسان نے استعمال کی ہے۔ انہیں "شیطانی" ٹیگ لگانا ان نعمتوں کی نفی ہے، جبکہ ان کا صحیح استعمال امتِ مسلمہ کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
عارف صاحب کے دعوے میں بنیادی علمی غلطیاں
- جدید ایجادات کو بغیر کسی ٹھوس شرعی دلیل کے دجال سے جوڑنا۔
- احادیثِ مبارکہ کو جدید ٹیکنالوجی پر زبردستی فٹ (Force-fitting) کرنا۔
- ٹیکنالوجی کو ایک "ارادہ رکھنے والا وجود" بنا کر پیش کرنا، جبکہ وہ صرف ایک بے جان آلہ ہے۔
- سنسنی خیزی پیدا کر کے عام مسلمانوں کو بلاوجہ خوف اور وسوسوں میں ڈالنا۔
نتیجہ
سمارٹ فونز، انٹرنیٹ اور مائیکرو چپس دجالی سسٹم نہیں ہیں۔ یہ انسانی ایجادات ہیں جن کا استعمال اچھائی اور برائی دونوں کے لیے ہو سکتا ہے۔ اصل اہمیت انسان کے ارادے اور نیت کی ہے۔ ہمارا کام ان چیزوں سے فائدہ اٹھانا، اللہ سے مدد مانگنا اور دجال کے اصل فتنے سے پناہ طلب کرنا ہے۔
قرآن و سنت کی تعلیم یہ ہے کہ فتنوں سے بچیں، علم حاصل کریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ ایجادات کو شیطانی قرار دے کر ان سے دور بھاگنے کی بجائے، انہیں دین کی خدمت میں لگانا ہی بہترین اور دانشمندانہ راستہ ہے۔
حوالہ جات:
- صحیح بخاری اور صحیح مسلم (دجال سے متعلق مستند ابواب)
- امام نووی کی "شرح صحیح مسلم" اور حافظ ابن حجر عسقلانی کی "فتح الباری"
- اسلامی اصولِ تفسیر و حدیث پر مستند علمی کتب
- جدید ٹیکنالوجی کے اخلاقی اور شرعی استعمال پر عصرِ حاضر کے جید علماء کے فتاویٰ
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

