⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

عبدالسلام عارف کے دعووں کا سائنسی و مذہبی رد: قسط نمبر 6


عبدالسلام عارف کے دعووں کا سائنسی و مذہبی رد: قسط و محاکمہ

قسط نمبر 6: حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں آج کی ٹیکنالوجی سے بھی آگے کی ٹیکنالوجی تھی؟

مؤلف : طارق اقبال سوہدروی

عبدالسلام عارف صاحب کے بیانات میں ایک بار بار دہرایا جانے والا دعویٰ یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں ایسی ٹیکنالوجی موجود تھی جو آج کی جدید ٹیکنالوجی سے بھی کئی ہزار سال آگے تھی۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہوائی جہاز، جدید مواصلاتی نظام، بجلی، اور دیگر جدید ایجادات اس دور میں موجود تھیں اور جنات کی تسخیر دراصل ایک طرح کی جدید سائنسی ٹیکنالوجی تھی۔ یہ دعویٰ سننے میں بہت سنسنی خیز لگتا ہے کیونکہ لوگ سوچتے ہیں کہ قدیم انبیاء کے پاس بھی ہم سے زیادہ جدید چیزیں تھیں۔

مگر جب ہم قرآن مجید، احادیث اور تاریخی پس منظر کو دیکھتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ دعویٰ علمی غلطی پر مبنی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس جو کچھ تھا وہ "معجزہ" تھا، نہ کہ "انسانی ٹیکنالوجی"۔

دعوے کا تفصیلی جائزہ

عارف صاحب کے مطابق:

  • حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس ہوا میں اڑنے والے تخت، جنات کی مدد سے بنائی گئی عمارتیں، اور جدید ٹیکنالوجی تھی۔
  • یہ سب انسانی سائنس اور انجینئرنگ کا نتیجہ تھا، نہ کہ اللہ کی طرف سے دیا گیا معجزہ۔
  • آج کی ٹیکنالوجی اس دور سے پیچھے ہے۔

قرآنی اور مذہبی سیاق و سباق

وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَيْءٍ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ (ترجمہ: اور سلیمان داؤد کا وارث ہوا اور کہا اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر چیز سے دیا گیا ہے۔ بے شک یہ واضح فضل ہے۔)
وَلِسُلَيمانَ الرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَواحُهَا شَهْرٌ ۖ وَأَسَلنا لَهُ عَينَ القِطرِ ۖ وَمِنَ الجِنِّ مَن يَعمَلُ بَينَ يَدَيهِ بِإِذنِ رَبِّهِ (ترجمہ: اور سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا گیا۔ صبح کا سفر ایک مہینے کا اور شام کا سفر ایک مہینے کا۔ اور ہم نے ان کے لیے پگھلا ہوا تانبے کا چشمہ جاری کر دیا اور جنات میں سے کچھ ان کے سامنے ان کے رب کے حکم سے کام کرتے تھے۔)
قالَ الَّذي عِندَهُ عِلمٌ مِنَ الكِتابِ أَنا آتيكَ بِهِ قَبلَ أَن يَرتَدَّ إِلَيكَ طَرفُكَ ۚ فَلَمّا رَآهُ مُستَقِرًّا عِندَهُ قالَ هٰذا مِن فَضلِ رَبّي (ترجمہ: جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے کہا میں تمہیں وہ (تخت) لے آؤں گا اس سے پہلے کہ تمہاری نگاہ تمہاری طرف لوٹ آئے۔ پھر جب سلیمان نے اسے اپنے پاس موجود دیکھا تو کہا یہ میرے رب کا فضل ہے۔)

یہ تمام آیات واضح طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیے گئے معجزات بیان کرتی ہیں۔ ہوا کی تسخیر، جنات کی خدمت، پرندوں کی بولی سمجھنا، اور ملکہ بلقيس کا تخت ایک آنکھ جھپکتے لانا — یہ سب اللہ کے حکم سے ہوا، نہ کہ کسی انسانی مشینری یا سائنسی ایجاد کا نتیجہ۔ عارف صاحب کا دعویٰ کہ یہ "ٹیکنالوجی" تھی، معجزے کی روح کو ختم کر دیتا ہے۔

سائنسی اور منطقی جائزہ

1. آثارِ قدیمہ (Archaeology) کی گواہی:
اگر حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس واقعی جدید ٹیکنالوجی ہوتی تو اس کے آثار آج بھی ملتے۔ لیکن آثارِ قدیمہ میں نہ تو کوئی جدید مشینری ملی ہے، نہ ہوائی جہازوں کے نشان، اور نہ ہی بجلی کے آلات۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ سب اللہ کی قدرت تھی جو صرف ان کے دور میں ان کی نبوت کی تصدیق کے لیے موجود تھی۔

2. معجزہ بمقابلہ ٹیکنالوجی:
ٹیکنالوجی ان قوانین کے تحت کام کرتی ہے جو کائنات میں پہلے سے موجود ہیں (جیسے کششِ ثقل یا برقی لہریں)۔ جبکہ معجزہ ان قوانین کو توڑ دیتا ہے۔ ہوا کا مہینوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنا کوئی ہوائی جہاز کی ٹیکنالوجی نہیں تھی، بلکہ اللہ کا حکم تھا جس نے ہوا کو ان کے تابع کر دیا تھا۔

نتیجہ

حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور کی شان ان کے معجزات تھے، نہ کہ کوئی انسانی ٹیکنالوجی۔ قرآن مجید انہیں اللہ کا فضل قرار دیتا ہے۔ ہمیں معجزات پر ان کی اصل روح کے مطابق ایمان لانا چاہیے اور جدید ایجادات کو کسی خوف کے بغیر دین کی خدمت میں لگانا چاہیے۔



حوالہ جات:
قرآن مجید: سورۂ نمل (16، 40)، سورۂ سبأ (12-13) [1]
تفسیر ابن کثیر، تفسیر طبری، تفسیر قرطبی [2]
صحیح بخاری و مسلم میں حضرت سلیمان علیہ السلام سے متعلق احادیث [3]
آثارِ قدیمہ کی رپورٹس (آرکیالوجیکل سروے) [4]
#عبدالسلام_عارف #حضرت_سلیمان #معجزات #ٹیکنالوجی #سائنسی_رد #قرآن_اور_سائنس #طارق_اقبال_سوہدروی
جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال