قرآنی معجزہ: انسانی تخلیق کا راز اور جدید ایمبریولوجی
مؤلف : طارق اقبال سوہدروی
مقدمہ
قرآن مجید اللہ رب العزت کا وہ آخری اور حتمی کلام ہے جو قیامت تک کے لیے انسانیت کی ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ یہ کتاب صرف عقائد اور عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ علم و حکمت کا ایک ایسا بحرِ بیکراں ہے جس کے ساحل تک پہنچنا انسانی عقل کے بس کی بات نہیں۔ چودہ سو سال پہلے نازل ہونے والی اس کتاب نے کائنات، انسانی تخلیق اور فطرت کے ایسے رازوں سے پردہ اٹھایا ہے جن تک پہنچنے کے لیے جدید سائنس کو صدیوں کا سفر طے کرنا پڑا اور جدید ترین ٹیکنالوجی کا سہارا لینا پڑا۔
قرآن کا سائنسی اعجاز (Scientific Miracle) یہ نہیں ہے کہ یہ سائنس کی کوئی کتاب ہے، بلکہ یہ ہے کہ جب یہ کائنات کے حقائق کو بیان کرتا ہے، تو اس کا بیان اتنا دقیق، جامع اور اٹل ہوتا ہے کہ سائنس کی ہر نئی دریافت اس کی تصدیق کرتی چلی جاتی ہے۔ یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہ کلام اسی ذات کا ہے جس نے اس کائنات اور انسان کو تخلیق کیا ہے۔
اس تحقیقی مقالے میں، ہم قرآن مجید کی ایک ایسی ہی حیرت انگیز آیت کا تفصیلی مطالعہ کریں گے جس نے صدیوں سے مفسرین اور سائنسدانوں کو غور و فکر کی دعوت دی ہے۔ یہ سورہ الطارق کی آیت نمبر 5 تا 7 ہیں، جہاں انسان کو اپنی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
فَلْيَنظُرِ الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ ۞ خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ ۞ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ ۞
ترجمہ: "پس انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ ایک اچھلتے ہوئے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔ جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔" — (سورہ الطارق: 5-7)
ہماری تحقیق کا مرکز آیت نمبر 7 ہے: "يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ"۔
ظاہری طور پر یہ آیت جدید سائنس (علمِ تشریح الاعضاء - Anatomy) سے متصادم نظر آتی ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مرد میں تولیدی مادہ (منی/Sperm) خصیوں (Testes) میں بنتا ہے جو جسم سے باہر اسکروٹم (Scrotum) میں ہوتے ہیں، اور عورت میں بیضہ (Ovum) بیضہ دانی (Ovaries) میں بنتا ہے جو پیٹ کے نچلے حصے (Pelvis) میں ہوتی ہیں۔ تو پھر قرآن یہ کیوں کہتا ہے کہ یہ پانی "پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان" سے نکلتا ہے؟
اس بظاہر نظر آنے والے تضاد نے بہت سے لوگوں کو الجھن میں ڈالا ہے اور مستشرقین و ملحدین نے اسے قرآن پر اعتراض کا بہانہ بنایا ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم آگے چل کر دیکھیں گے، جب ہم جدید ایمبریولوجی (علمِ جنین) کی گہرائی میں اترتے ہیں، تو یہ آیت تضاد کے بجائے قرآن کا ایک عظیم الشان سائنسی معجزہ بن کر سامنے آتی ہے۔
حصہ اول: قرآنی الفاظ کا لسانی اور تفسیری تجزیہ
سائنسی پہلو پر جانے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم قرآن کے استعمال کردہ الفاظ کے دقیق معنوں کو سمجھیں، کیونکہ قرآن کا اعجاز اس کے الفاظ کے انتخاب میں ہی مضمر ہے۔
1. الصلب (The Backbone/Loins): عربی لغت میں "صلب" کا مطلب ہے پیٹھ کی ہڈی، ریڑھ کی ہڈی (Vertebral Column)، یا کمر کا وہ حصہ جو مضبوط اور سخت ہو۔ مفسرین نے عام طور پر اس سے مراد مرد کی پیٹھ لی ہے۔
2. الترائب (The Ribs/Chest Bones): "ترائب" کا لفظ "تریبة" کی جمع ہے۔ اس کے معنوں میں لغت اور مفسرین کے درمیان تھوڑا اختلاف پایا جاتا ہے: اکثر مفسرین (مثلاً ابن عباسؓ، قتادہؒ): اس سے مراد عورت کے سینے کی ہڈیوں کا وہ حصہ ہے جہاں ہار پہنا جاتا ہے، یعنی گردن کے نیچے اور سینے کے اوپر کا حصہ (Upper Chest/Clavicle region)۔ بعض لغت دان: اس سے مراد پسلیاں (Ribs) ہیں، خواہ وہ مرد کی ہوں یا عورت کی۔ جدید محققین: اسے عمومی طور پر سینے کا پنجرہ (Rib Cage) یا سینے کا علاقہ سمجھا جاتا ہے۔
اگر ہم کلاسیکی تفسیر کو لیں تو آیت کا مطلب بنتا ہے: "وہ پانی مرد کی پیٹھ اور عورت کے سینے کے درمیان سے نکلتا ہے۔" یہ مفہوم بھی درست ہے کیونکہ بچے کی پیدائش مرد اور عورت دونوں کے پانی کے ملنے سے ہوتی ہے، اور یہاں دونوں کے اہم حصوں کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے۔ لیکن اگر ہم ایک اور نقطہ نظر سے دیکھیں، جہاں "انسان" کی عمومی تخلیق کا ذکر ہے، تو اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خود اس تولیدی مادے کا ماخذ، خواہ مرد میں ہو یا عورت میں، "صلب" (پیٹھ) اور "ترائب" (سینے) کے درمیان کا علاقہ ہے۔ یہ دوسری تفسیر جدید ایمبریولوجی سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔
3. یخرج (Emerges/Comes out): یہاں فعل مضارع استعمال ہوا ہے، جو استمرار (Continuity) یا کسی چیز کے نکلنے کے عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ یہ "فوری اخراج" (Ejaculation) کے وقت کا ہی ذکر ہو، بلکہ یہ اس کی "ابتدائی تشکیل" یا "ماخذ" سے نکلنے کی طرف بھی اشارہ کر سکتا ہے۔
حصہ دوم: جدید ایمبریولوجی کی روشنی میں حقائق
اب ہم آتے ہیں اس مقالے کے سب سے اہم حصے کی طرف۔ کیا جدید سائنس (علمِ جنین) ہمیں کوئی ایسی معلومات فراہم کرتی ہے جو قرآن کے اس دعوے کی تصدیق کر سکے کہ تولیدی مادے کا تعلق "پیٹھ اور سینے کے درمیان" کے علاقے سے ہے؟ جواب ہے: جی ہاں، اور بہت حیرت انگیز انداز میں!
جب ہم بالغ انسان کو دیکھتے ہیں تو اس کے تولیدی اعضاء (خصیے یا بیضہ دانی) اپنی حتمی جگہوں پر ہوتے ہیں (مرد میں اسکروٹم، عورت میں پیڑو)۔ لیکن کہانی یہاں سے شروع نہیں ہوتی۔ کہانی شروع ہوتی ہے ماں کے پیٹ میں، جب یہ انسان ابھی ایک ننھا سا جنین (Embryo) ہوتا ہے۔
1. تولیدی اعضاء کی ابتدائی تشکیل (The Embryological Origin): ایمبریولوجی کا مسلمہ حقیقت ہے کہ انسانی جنین میں تولیدی نظام (Reproductive System) کی بنیاد بہت ابتدائی مراحل میں رکھی جاتی ہے۔ حمل کے تقریباً پانچویں ہفتے میں، جنین کے اندر ایک خاص ساخت ابھرتی ہے جسے "یوروجینیٹل رج" (Urogenital Ridge) کہتے ہیں۔ مقام: یہ ساخت کہاں بنتی ہے؟ یہ بالکل پیٹھ کی ہڈی (Vertebral Column) کے دونوں طرف اور نچلی پسلیوں (Lower Ribs) کے قریب واقع ہوتی ہے۔ گونڈز (Gonads): اسی "رج" سے آگے چل کر "گونڈز" (Gonads) بنتے ہیں۔ گونڈز وہ ابتدائی تولیدی غدود ہیں جو ابھی تک غیر متعین (Indifferent) ہوتے ہیں، یعنی ابھی یہ طے نہیں ہوا ہوتا کہ یہ خصیے (Testes) بنیں گے یا بیضہ دانی (Ovaries)۔ نتیجہ: ایمبریولوجی کا یہ پہلا اور بنیادی ثبوت ہے کہ تولیدی اعضاء کا "ابتدائی مقام" (Origin) اور جائے پیدائش وہی ہے جس کی نشاندہی قرآن نے کی ہے: "مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ" (پیٹھ اور سینے/پسلیوں کے درمیان)۔
2. اعضاء کا نیچے کی طرف سفر (Descent of the Gonads): جیسے جیسے جنین بڑا ہوتا ہے، یہ اعضاء اپنی ابتدائی جگہ پر نہیں رہتے بلکہ نیچے کی طرف سفر شروع کرتے ہیں۔ مرد میں: خصیے (Testes) پیٹھ کے علاقے سے شروع ہو کر پیٹ (Abdomen) سے گزرتے ہوئے، پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے "انگوئنل کینال" (Inguinal Canal) کے ذریعے جسم سے باہر تھیلی (Scrotum) میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہ ایک طویل اور پیچیدہ سفر ہے۔ عورت میں: بیضہ دانی (Ovaries) بھی اسی علاقے سے شروع ہوتی ہے اور نیچے پیڑو (Pelvis) میں جا کر رک جاتی ہے۔ قرآن مجید جب کہتا ہے کہ یہ پانی "نکلتا ہے" (یخرج) پیٹھ اور سینے کے درمیان سے، تو یہ اس کے "ماخذ" اور "ابتدا" کی طرف ایک انتہائی لطیف اور دقیق اشارہ ہے۔ بالغ ہونے کے بعد اگرچہ ان کی جگہ بدل جاتی ہے، لیکن ان کی "جڑ" اور "بنیاد" ہمیشہ وہیں رہتی ہے جہاں قرآن نے بتایا۔
3. اعصابی اور خونی سپلائی (Nerve and Blood Supply) کا ثبوت: اس بات کا ایک اور زبردست سائنسی ثبوت موجود ہے جو کبھی جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ جسم میں کسی بھی عضو کا اصل مقام جاننے کا ایک طریقہ یہ دیکھنا ہے کہ اس کی "تاریں" (اعصاب اور خون کی نالیاں) کہاں سے آ رہی ہیں۔
خون کی سپلائی (Blood Supply): خصیوں کو خون پہنچانے والی شریان (Testicular Artery) اور بیضہ دانی کی شریان (Ovarian Artery) براہِ راست دل سے نکلنے والی بڑی شریان "ایورٹا" (Aorta) سے شاخ کی صورت میں نکلتی ہیں۔ یہ شاخیں کس مقام سے نکلتی ہیں؟ یہ پیٹ میں بہت اوپر، گردوں (Kidneys) کے بالکل نیچے اور پیٹھ کی ہڈی (T10-L2 لیول) کے پاس سے نکلتی ہیں۔ پھر یہ لمبی شریانیں نیچے کا سفر طے کر کے اپنے اپنے اعضاء تک پہنچتی ہیں۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ان اعضاء کا اصل "پاور ہاؤس" پیٹھ اور سینے کا درمیانی علاقہ ہی ہے۔
اعصابی سپلائی (Nerve Supply): اسی طرح، خصیوں اور بیضہ دانی کو کنٹرول کرنے والے اعصاب (Nerves) بھی ریڑھ کی ہڈی کے اسی حصے (Thoracic 10 to Lumbar 2 segments) سے نکلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کسی شخص کو خصیے میں چوٹ لگے، تو اس کا درد پیٹ اور پیٹھ کے علاقے میں محسوس ہوتا ہے (Referred Pain)، کیونکہ ان کے اعصاب کا ماخذ ایک ہی ہے۔
خلاصہ: خون کی نالیاں ہوں یا اعصاب، دونوں کا نظام اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ تولیدی اعضاء کا "فنکشنل ہیڈکوارٹر" اور "اوریجن" پیٹھ اور سینے کے درمیان کا علاقہ ہے۔
4. لمفیٹک ڈرینج (Lymphatic Drainage): لمفیٹک نظام، جو جسم کا صفائی اور دفاعی نظام ہے، اس میں بھی خصیوں اور بیضہ دانی کا "لمف" (Lymph) واپس پیٹ کے اوپری حصے میں، گردوں کے قریب موجود "پیرا ایورٹک لمف نوڈز" (Para-aortic lymph nodes) میں جاتا ہے، جو کہ پھر اسی "صلب و ترائب" کے علاقے میں ہیں۔ اس کے برعکس، اسکروٹم کی جلد کا لمف نیچے ٹانگوں کے پاس جاتا ہے۔ یہ فرق بتاتا ہے کہ خصیے کی اصل اور اسکروٹم کی اصل مختلف ہے۔
حصہ سوم: اعتراضات اور اشکالات کا جواب
اس آیت پر کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن نے غلط بیانی کی ہے کیونکہ منی تو ٹیسٹس میں بنتی ہے، پیٹھ میں نہیں۔ آئیے ان اعتراضات کا جائزہ لیں:
اعتراض 1: قرآن بالغ انسان کی بات کر رہا ہے، جنین کی نہیں، اور بالغ میں یہ اعضاء نیچے ہوتے ہیں۔
جواب: قرآن کا اندازِ بیان حکیمانہ ہے۔ وہ ایسی بات کرتا ہے جو ہر دور کے انسان کے لیے درست ہو۔ ماخذ کی اہمیت: کسی چیز کا ذکر اس کے "ماخذ" (Origin) سے کرنا ایک فصیح اور بلیغ انداز ہے۔ جیسے ہم کہتے ہیں "یہ سیب سوات کا ہے" حالانکہ وہ بک لاہور میں رہا ہوتا ہے۔ اس کی اصل سوات ہے۔ اسی طرح تولیدی مادے کی "اصل" پیٹھ اور سینے کا درمیانی علاقہ ہے۔ سائنسی گہرائی: اگر قرآن صرف یہ کہہ دیتا کہ منی خصیوں سے نکلتی ہے، تو یہ 1400 سال پہلے کے بدو کے لیے تو سمجھنا آسان ہوتا، لیکن آج کا سائنسدان کہتا کہ یہ تو ایک سطحی بات ہے۔ قرآن نے ایسی گہری بات کی جس نے جدید ایمبریولوجی کے حقائق کو اپنے اندر سمو لیا۔ یہ اس کے کلامِ الٰہی ہونے کی دلیل ہے۔
اعتراض 2: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد گردے ہیں، کیونکہ وہ بھی اسی علاقے میں ہوتے ہیں۔
جواب: یہ درست ہے کہ گردے بھی embryologically اسی علاقے میں بنتے ہیں اور تولیدی نظام کے بہت قریب ہوتے ہیں (اسی لیے اسے urogenital system کہتے ہیں)، لیکن گردوں کا کام پیشاب بنانا ہے، تولیدی مادہ نہیں۔ قرآن یہاں "ماء دافق" (اچھلنے والے پانی یعنی منی) کی بات کر رہا ہے، جس سے انسان پیدا ہوتا ہے۔ لہٰذا یہاں اشارہ تولیدی اعضاء (gonads) ہی کی طرف ہے، گردوں کی طرف نہیں۔ ہاں، ان کا ابتدائی مقام ایک ہی ہے۔
حصہ چہارم: مفسرین اور سائنسدانوں کا حسین امتزاج
یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہے کہ کیسے اس ایک آیت نے قدیم مفسرین اور جدید سائنسدانوں دونوں کو حق تک پہنچایا۔
قدیم مفسرین کا فہم: ان کے پاس ایمبریولوجی کا علم نہیں تھا، اس لیے انہوں نے اس آیت کو ظاہری الفاظ پر محمول کیا کہ مرد کی پیٹھ (صلب) اور عورت کے سینے (ترائب) سے پانی نکلتا ہے۔ یہ بھی اپنی جگہ درست ہے کیونکہ پیدائش میں دونوں کا حصہ ہے اور یہ دونوں مقامات جسمانی قوت اور ساخت کے اہم مراکز ہیں۔ انہوں نے اس میں کوئی تضاد محسوس نہیں کیا۔
جدید سائنسدانوں کا اعتراف: جب جدید دور کے ایمبریولوجسٹس (جیسے ڈاکٹر کیتھ مور) کے سامنے یہ آیات رکھی گئیں، تو وہ حیران رہ گئے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ 7ویں صدی عیسوی میں، جب مائکروسکوپ کا وجود نہیں تھا، انسانی جنین کی نشوونما کی اتنی دقیق اور درست معلومات دینا کسی انسان کے بس کا روگ نہیں ہو سکتا۔ یہ یقینی طور پر وحی کا نتیجہ ہے۔ یہ آیت قرآن کا وہ معجزہ ہے جس کا مفہوم زمانے کے ساتھ ساتھ وسیع تر ہوتا چلا گیا ہے۔
نتیجہ اور خلاصہ
ہماری اس تفصیلی تحقیق کا نچوڑ یہ ہے کہ سورہ الطارق کی آیت نمبر 7 "يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ" قرآن مجید کا ایک زندہ اور تابندہ سائنسی معجزہ ہے۔
- یہ آیت انسانی تولیدی نظام کے "ایمبریولوجیکل اوریجن" (Embryological Origin) کی طرف ایک انتہائی دقیق اشارہ کرتی ہے۔
- جدید سائنس تصدیق کرتی ہے کہ ماں کے پیٹ میں خصیے اور بیضہ دانی کی ابتدائی تشکیل پیٹھ کی ہڈی اور نچلی پسلیوں کے درمیان والے علاقے میں ہوتی ہے۔
- ان اعضاء کو خون اور اعصابی پیغامات پہنچانے والی شریانیں اور نسیں آج بھی بالغ انسان میں اسی پیٹھ اور سینے کے درمیانی علاقے سے نکلتی ہیں، جو ان کے حقیقی ماخذ کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔
- قرآن کا یہ بیان بظاہر جدید اناٹومی کے خلاف نظر آتے ہوئے بھی، حقیقت میں ایمبریولوجی کی بنیادوں پر کھڑا ہے اور سائنس سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔
یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ قرآن کا خالق وہی ہے جو انسان کا خالق ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس نے انسان کو کیسے بنایا، اس کی ابتدا کہاں سے ہوئی، اور اس کا سفر کیسا رہا۔
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
حوالہ جات (References):
- قرآنِ مجید، سورہ الطارق، آیات 5-7۔
- Keith L. Moore, T.V.N. Persaud, "The Developing Human: Clinically Oriented Embryology".
- T.W. Sadler, "Langman's Medical Embryology".
- تفسیر ابن کثیر، سورہ الطارق۔
- تفسیر طبری، سورہ الطارق۔
#قرآنی_معجزہ #انسانی_تخلیق #جدید_ایمبریولوجی #صلب_و_ترائب #سائنس_اور_اسلام #قرآن_کا_سائنسی_اعجاز #سورہ_الطارق #ایمان_افروز_حقائق #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #QuranicMiracle #HumanCreation #ModernEmbryology #ScienceAndIslam #QuranAndScience #SurahAtTariq #IslamicScience
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

