مکہ
مکرمہ کی مرکزیت اور سائنسی افسانے
(انٹرنیٹ
پر گردش کرنے والے مضامین کا ایک تنقیدی و تحقیقی جائزہ)
آج کل انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ایسے
مضامین اور ویڈیوز کی بھرمار ہے جن میں مکہ مکرمہ اور خانہ کعبہ کی فضیلت کو جدید
سائنسی ایجادات اور تحقیقات کے ذریعے "ثابت" کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
ان مضامین کو شیئر کرنے والے مسلمان یقیناً نیک نیتی اور جذبہِ ایمانی کے تحت ایسا
کرتے ہیں، تاکہ اسلام کی حقانیت کو اجاگر کیا جا سکے۔
لیکن بدقسمتی سے، ان میں سے اکثر
مضامین جذباتیت، کمزور تحقیق، اور بعض اوقات صریح جھوٹ پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان میں
صحیح دینی عقائد کے ساتھ غلط سائنسی نظریات اور من گھڑت واقعات کو اس طرح خلط ملط
کر دیا جاتا ہے کہ عام قاری کے لیے سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اس تحقیقی مقالے کا مقصد انٹرنیٹ پر
پھیلے ہوئے ان مقبول دعوؤں کا ایک غیر جانبدارانہ، علمی، دینی اور سائنسی جائزہ
لینا ہے، تاکہ ہم حقیقت اور افسانے میں فرق کر سکیں اور اپنے ایمان کی بنیاد کسی
ریت کے محل پر نہ رکھیں۔
حصہ اول:
دینی و تاریخی دعوؤں کا جائزہ
انٹرنیٹ کے مضامین میں سب سے پہلے کچھ
دینی دعوے کیے جاتے ہیں، جن کی بنیاد قرآن و سنت پر ہونے کا تاثر دیا جاتا ہے۔
آئیے ان کا جائزہ لیتے ہیں۔
دعویٰ نمبر
1: کعبہ زمین پر بنایا گیا "پہلا گھر" ہے
- انٹرنیٹ
کا موقف:
تمام مضامین میں اس بات پر زور
دیا جاتا ہے کہ خانہ کعبہ اللہ کا بنایا ہوا روئے زمین پر پہلا گھر ہے۔
- تحقیقی
جائزہ (درست):
یہ دعویٰ بالکل درست اور ہمارا
ایمان ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے:
﴿إِنَّ أَوَّلَ
بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ﴾ "بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لیے مقرر کیا
گیا، وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا اور جہان والوں کے لیے ہدایت کا مرکز۔"
(سورہ آل عمران: 96) [1]
- نتیجہ: یہ
ایک قطعی قرآنی حقیقت ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔ اس نکتے پر کوئی سائنسی
بحث نہیں ہے۔
دعویٰ نمبر
2: مکہ زمین کا پہلا خشکی کا ٹکڑا ہے اور یہیں سے زمین پھیلائی گئی
- انٹرنیٹ
کا موقف:
یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جب پوری
زمین پانی میں ڈوبی ہوئی تھی، تو سب سے پہلے مکہ (کعبہ) کی جگہ خشکی کے ٹکڑے
کے طور پر نمودار ہوئی اور پھر اسی جگہ سے باقی زمین کو پھیلایا گیا۔ اس کی
دلیل میں کچھ احادیث اور اقوال پیش کیے جاتے ہیں۔
- تحقیقی
جائزہ (دینی پہلو - روایات کی حیثیت):
اس موضوع پر پیش کی جانے والی
روایات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
- حدیثِ
ابنِ عباسؓ (موقوف روایت):
اکثر ایک روایت حضرت عبداللہ بن
عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی جاتی ہے کہ "کعبہ پانی کے اوپر چار
ستونوں پر ایک سفید جھاگ کی طرح تھا، اسی کے نیچے سے زمین پھیلائی گئی۔"
- حیثیت: محدثین
کے نزدیک یہ روایت "مرفوع" نہیں ہے (یعنی نبی ﷺ کا فرمان نہیں)،
بلکہ یہ ابنِ عباسؓ کا اپنا قول (موقوف روایت) ہے۔ بعض محققین کا خیال ہے کہ
یہ انہوں نے اہلِ کتاب (یہودیوں) کی روایات سے اخذ کیا ہو سکتا ہے
(اسرائیلیات)۔
- دیگر
روایات:
اس مضمون کی دیگر روایات (جیسے
طبرانی یا بیہقی کے حوالے سے) بھی سند کے اعتبار سے "ضعیف"
(کمزور) یا "موقوف" ہیں۔ کسی بھی "صحیح مرفوع حدیث" سے
یہ بات ثابت نہیں ہے کہ مکہ خشکی کا پہلا ٹکڑا تھا جہاں سے زمین پھیلائی گئی
[2]۔
- نتیجہ
(دینی):
یہ عقیدہ قرآن یا صحیح حدیث سے
ثابت نہیں۔ یہ زیادہ تر اسرائیلیات یا ضعیف روایات پر مبنی ہے، لہٰذا اسے
قطعی دینی عقیدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
دعویٰ نمبر
3: زمینی کعبہ، آسمانی کعبہ (بیت المعمور) کی سیدھ میں ہے
- انٹرنیٹ
کا موقف:
یہ کہا جاتا ہے کہ آسمانوں میں
فرشتوں کا قبلہ "بیت المعمور" بالکل زمینی کعبہ کے اوپر واقع ہے۔
- تحقیقی
جائزہ (درست):
یہ بات متعدد احادیث اور آثارِ
صحابہ سے ثابت ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ اگر بیت المعمور سے کوئی چیز گرے تو
وہ سیدھی خانہ کعبہ پر گرے گی [3]۔
- نتیجہ: یہ
ایک غیبی اور روحانی حقیقت ہے جو ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ یہ کوئی ایسا مادی
دعویٰ نہیں جس کی سائنسی لیبارٹری میں تصدیق یا تردید کی جا سکے۔
حصہ دوم:
سائنسی دعوؤں اور افسانوں کا پوسٹ مارٹم
اب ہم آتے ہیں ان دعوؤں کی طرف جنہیں
"جدید سائنس" کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور جو انٹرنیٹ پر سب
سے زیادہ وائرل ہیں۔
دعویٰ نمبر
4: "مکہ کی چٹانیں
(Basalt Rocks) زمین
کی قدیم ترین چٹانیں ہیں"
- انٹرنیٹ
کا موقف:
کہا جاتا ہے کہ سائنسی تحقیق نے
ثابت کر دیا ہے کہ مکہ کی سیاہ چٹانیں دنیا کی سب سے پرانی چٹانیں ہیں۔
- سائنسی
تحقیقی جائزہ (مکمل غلط):
یہ دعویٰ جدید علم الارضیات (Geology) کے بنیادی حقائق سے متصادم ہے۔
- سائنسدانوں
نے ریڈیو میٹرک ڈیٹنگ (Radiometric Dating) کے ذریعے دنیا بھر کی چٹانوں کی عمر معلوم کی ہے۔
- اب تک
دریافت ہونے والی قدیم ترین چٹانیں کینیڈا (Acasta Gneiss Complex) اور آسٹریلیا (Jack Hills zircons) میں ملی ہیں، جن کی عمر تقریباً 4 ارب (4 Billion) سال ہے۔
- جزیرہ
نما عرب اور مکہ کے علاقے کی ارضیاتی تشکیل (Arabian Shield) ان کے مقابلے میں بہت بعد کی ہے (زیادہ تر 600 سے 900
ملین سال پرانی) [4]۔
- نتیجہ: مکہ
کی چٹانوں کے قدیم ترین ہونے کا سائنسی دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے۔
دعویٰ نمبر
5: "ڈاکٹر حسین کمال الدین نے ثابت کیا کہ مکہ زمین کا جغرافیائی مرکز ہے"
- انٹرنیٹ
کا موقف:
ایک مصری پروفیسر کا حوالہ دیا
جاتا ہے کہ انہوں نے جدید کمپیوٹرز اور نقشوں کی مدد سے ثابت کیا کہ مکہ خشکی
کے تمام براعظموں کے بالکل مرکز (Center) میں
واقع ہے۔
- سائنسی
تحقیقی جائزہ (متنازعہ اور غیر مصدقہ):
- زمین
ایک بیضوی گولہ (Oblate Spheroid) ہے، اس کا کوئی ایک "فطری مرکز" نہیں ہوتا۔
- اگر
ہم خشکی کے تمام ٹکڑوں کا "جغرافیائی مرکز" (Geographical Center of Earth's Landmass) نکالنے کی کوشش کریں، تو یہ ایک
پیچیدہ ریاضیاتی مسئلہ ہے۔ مختلف طریقوں (مثلاً "سینٹر آف
گریویٹی" میتھڈ) سے یہ مرکز مختلف جگہوں پر نکلتا ہے۔
- زیادہ
تر جدید حسابات (جیسے
2003ء میں Woods اور Frayne کی
تحقیق) کے مطابق یہ مرکز ترکی کے قریب
واقع ہے۔ کچھ پرانی تحقیقات میں اسے مصر میں دکھایا گیا تھا۔
- ڈاکٹر
حسین کمال الدین کی تحقیق کسی بین الاقوامی، ہم مرتبہ جائزے (Peer-Reviewed) والے سائنسی جریدے میں شائع
نہیں ہوئی اور نہ ہی اسے عالمی سائنسی برادری نے تسلیم کیا ہے۔ یہ ان کی
ذاتی کاوش ہو سکتی ہے، لیکن اسے ایک "ثابت شدہ سائنسی حقیقت" کے
طور پر پیش کرنا درست نہیں [5]۔
دعویٰ نمبر
6: "نیل آرم سٹرانگ اور کعبہ سے نکلنے والی لامحدود شعاعیں"
- انٹرنیٹ
کا موقف:
یہ سب سے مشہور افسانہ ہے کہ جب
نیل آرم سٹرانگ چاند پر گیا تو اس نے دیکھا کہ زمین ایک نقطے پر معلق ہے اور
مکہ (کعبہ) سے ایک طاقتور شعاع (Ray) نکل
کر خلا میں جا رہی ہے۔ یہ شعاع لامحدود (Infinite) تھی،
اور ناسا نے اسلام قبول کرنے کے ڈر سے یہ معلومات اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دیں
اور یہ خبر دبا دی۔ اس کے گواہ کے طور پر ڈاکٹر عبدالباسط کا نام لیا جاتا
ہے۔
- سائنسی
تحقیقی جائزہ (من گھڑت افسانہ):
- نیل
آرم سٹرانگ کی تردید:
نیل آرم سٹرانگ نے اپنی زندگی
میں کبھی ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا۔ نہ ہی ان کے ساتھی خلا بازوں (Buzz Aldrin وغیرہ) نے
ایسی کوئی بات کی۔
- ناسا
کا ریکارڈ:
ناسا کے تمام مشنز کی تصاویر،
ویڈیوز اور آڈیو ریکارڈنگز پبلک ڈومین میں موجود ہیں۔ ان میں کہیں بھی ایسی
کسی شعاع کا ذکر یا تصویر نہیں ہے۔
- سائنسی
ناممکنات:
فزکس کے قوانین کے مطابق کوئی
بھی "شعاع" لامحدود (Infinite) نہیں
ہو سکتی، اس کی توانائی فاصلے کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے۔ نیز، خلائی شعاعیں (Cosmic Rays) خلا سے زمین کی طرف آتی ہیں، نہ
کہ زمین سے کسی خاص نقطے سے باہر جاتی ہیں۔
- نتیجہ: یہ
ایک مکمل طور پر من گھڑت کہانی ہے جو مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کے لیے
بنائی گئی ہے [6]۔
دعویٰ نمبر
7: "مکہ میں مقناطیسی کشش صفر
(Zero Magnetism) ہے
اور قطب نما کام نہیں کرتا"
- انٹرنیٹ
کا موقف:
کہا جاتا ہے کہ کعبہ ایک
"مقناطیسی قطب" (Magnetic Pole) پر ہے جہاں کششِ ثقل یا مقناطیسی میدان صفر ہو جاتا ہے،
اور اسی وجہ سے وہاں جانے والے لوگ صحت مند رہتے ہیں اور بیماریاں ختم ہو
جاتی ہیں۔
- سائنسی
تحقیقی جائزہ (بالکل غلط):
- مقناطیسی
میدان:
زمین کا مقناطیسی میدان پوری
دنیا میں موجود ہے۔ مکہ مکرمہ میں بھی یہ میدان موجود ہے اور اس کی شدت اور
زاویہ
(Declination/Inclination) معلوم
اور ریکارڈ شدہ ہے۔ وہاں قطب نما بالکل ٹھیک کام کرتا ہے اور شمال کی سمت
بتاتا ہے۔
- مقناطیسی
قطبین:
زمین کے صرف دو مقناطیسی قطب
ہیں (شمالی اور جنوبی)، جو کینیڈا اور انٹارکٹیکا کے قریب ہیں۔ مکہ ان سے
ہزاروں میل دور ہے۔
- زیرو
میگنیٹزم اور صحت:
دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں
جہاں مقناطیسی میدان "صفر" ہو۔ اور اگر ہو بھی، تو اس کا صحت پر
کوئی معجزاتی اثر ثابت شدہ نہیں ہے۔ یہ دعویٰ سراسر جہالت پر مبنی ہے [7]۔
دعویٰ نمبر
8: "کائنات کی ہر چیز طواف کی طرح اینٹی کلاک وائز (مخالف گھڑی وار) گھومتی
ہے"
- انٹرنیٹ
کا موقف:
کہا جاتا ہے کہ ایٹم کے الیکٹران
سے لے کر کہکشاؤں تک، کائنات کی ہر چیز "اینٹی کلاک وائز" گھومتی
ہے، اور کعبہ کا طواف بھی اسی فطری قانون کی پیروی ہے۔
- سائنسی
تحقیقی جائزہ (مبالغہ آمیز):
- جزوی
حقیقت:
یہ بات درست ہے کہ ہمارے نظام
شمسی کے سیارے سورج کے گرد، اور بہت سی کہکشائیں اینٹی کلاک وائز گھومتی
ہیں۔ طواف کا بھی اسی سمت میں ہونا ایک خوبصورت روحانی مطابقت کا احساس
دلاتا ہے۔
- مبالغہ: لیکن
یہ کہنا کہ "ہر چیز" اسی طرح گھومتی ہے، سائنسی طور پر غلط ہے۔
- کچھ سیاروں کے چاند (جیسے
نیپچون کا Triton) کلاک وائز (گھڑی وار) گھومتے
ہیں۔
- زہرہ سیارہ (Venus) اپنے
محور پر کلاک وائز گھومتا ہے۔
- جنوبی نصف کرہ (Southern Hemisphere) میں سمندری طوفان (Cyclones) کلاک وائز گھومتے ہیں۔
- کئی کہکشائیں بھی کلاک وائز گھومتی ہیں [8]۔
- نتیجہ: یہ
ایک اچھا مشاہدہ ہے لیکن اسے "کائناتی قانون" بنا کر پیش کرنا
مبالغہ آرائی ہے۔
خلاصہ اور
حتمی نتیجہ
اس تفصیلی تجزیے سے یہ بات کھل کر
سامنے آتی ہے کہ انٹرنیٹ پر مکہ مکرمہ کی شان میں گردش کرنے والے سائنسی مضامین کا
بڑا حصہ جھوٹ، مبالغہ آرائی، ضعیف روایات اور غلط سائنسی معلومات کا ملغوبہ ہے۔
ہمارا دو ٹوک موقف:
1. ایمان کی بنیاد:
مکہ مکرمہ اور خانہ کعبہ کی عظمت و
تقدس ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ یہ اللہ کا پہلا گھر ہے، ہمارا قبلہ ہے، اور روحانیت
کا مرکز ہے۔ اس کی فضیلت کسی سائنسی سرٹیفکیٹ، کسی جھوٹی خلائی کہانی، یا کسی غلط
جغرافیائی دعوے کی محتاج نہیں ہے۔
2. جھوٹ کا نقصان:
جب ہم جذبات میں آ کر ایسی بے بنیاد
باتیں دین سے منسوب کرتے ہیں، اور پھر کوئی غیر مسلم یا پڑھا لکھا شخص سائنس کی
مدد سے انہیں جھوٹا ثابت کر دیتا ہے، تو اس سے اسلام کی بدنامی ہوتی ہے۔ لوگ ہمارے
سچے دین کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔
3. درست رویہ: ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن و سنت کے قطعی دلائل پر اکتفا کریں۔ جو
بات قرآن و صحیح حدیث سے ثابت ہے، اسے سینے سے لگائیں۔ اور جو باتیں محض افسانے
ہیں، خواہ وہ کتنے ہی خوشنما کیوں نہ لگیں، انہیں رد کر دیں تاکہ ہمارا دین خرافات
سے پاک رہے۔
اسلام سچائی کا دین ہے، اور سچائی کو
جھوٹ کے سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
واللہ اعلم بالصواب۔
حوالہ جات و
مصادر (References &
Sources):
[1] کعبہ کا "پہلا گھر" ہونا (دینی ماخذ):
- قرآن
مجید، سورہ آل عمران، آیت: 96۔
[2] مکہ سے زمین پھیلانے والی روایات کا جائزہ (محدثین کا موقف):
- علامہ
البانیؒ نے ان روایات کو "ضعیف" یا "موضوع" (من گھڑت)
قرار دیا ہے (ملاحظہ ہو: سلسلة
الأحاديث الضعيفة والموضوعة،
حدیث نمبر: 5835 وغیرہ)۔
- حافظ
ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کی روایت کو
"اسرائیلیات" میں سے شمار کیا ہے (تفسیر ابن کثیر، زیرِ آیت سورہ
البقرہ: 22)۔
- مزید
تفصیل کے لیے دیکھیں: ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی کتاب خُطباتِ بہاولپور (خطبہ
اول)۔
[3] بیت المعمور کی سیدھ (دینی ماخذ):
- مختلف
احادیث اور آثارِ صحابہ، مثلاً مصنف عبد الرزاق (حدیث نمبر: 9096)، تفسیر
طبری وغیرہ۔
[4] قدیم ترین چٹانوں کی سائنسی حقیقت
(Geological Data):
- Acasta
Gneiss (Canada):
4.03 Billion years old. (Source: Geology journal).
- Jack
Hills Zircons (Australia):
4.4 Billion years old. (Source: Nature journal).
- Arabian
Shield Geology:
The rocks in the Mecca region are primarily from the Proterozoic eon
(600-900 million years old). (Source: US Geological Survey (USGS) reports
on Arabian Peninsula).
[5] زمین کا جغرافیائی مرکز
(Scientific Calculations):
- ڈاکٹر
حسین کمال الدین کی تحقیق کسی بین الاقوامی "Peer-Reviewed Journal" میں موجود نہیں ہے۔
- جدید
حسابی ماڈلز کے لیے دیکھیں: Woods, A., & Frayne, C. (2003). The geographical
center of the world. (اس تحقیق کے مطابق مرکز ترکی کے قریب ہے)۔
- زمین
کی شکل کے لیے: World Geodetic System (WGS 84).
[6] نیل آرم سٹرانگ اور خلائی شعاعوں کا افسانہ (NASA Records):
- نیل
آرم سٹرانگ کے مشن (Apollo 11) کی
تمام ٹرانسکروپٹس، تصاویر اور آڈیو ناسا کی ویب سائٹ پر پبلک ہیں۔ (Source: NASA History Division).
- خلائی
شعاعوں (Cosmic
Rays) کی حقیقت کے لیے: NASA's "Goddard Space Flight
Center" website.
[7] مکہ کا مقناطیسی میدان اور زیرو میگنیٹزم (Geomagnetic Data):
- دنیا
بھر کا مقناطیسی نقشہ (World Magnetic Model - WMM) آن لائن دستیاب ہے۔ آپ کسی بھی مقام کا مقناطیسی ڈیٹا چیک
کر سکتے ہیں۔ مکہ میں مقناطیسی میدان موجود ہے۔
- Source:
National Oceanic and Atmospheric Administration (NOAA).
[8] کائنات میں گھومنے کی سمت
(Astronomical Facts):
- Venus
Rotation:
Retrograde (clockwise) rotation. (Source: NASA Solar System Exploration).
- Cyclones
in Southern Hemisphere:
Clockwise rotation due to Coriolis effect. (Source: World Meteorological
Organization).
- Galaxies
Rotation:
Various galaxies rotate clockwise. (Source: Hubble Space Telescope data).
#MakkahFacts #IslamAndScience #HoaxBuster #KaabaMiracles #FaithAndReason #تحقیقی_مقالہ

ایک تبصرہ شائع کریں