⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

مچھر ۔ اللہ کی قدرت کی نشانی ۔ جدید سائنس کی روشنی میں

 

ایک مائیکرو 3D تصویر جو مچھر کے پیچیدہ جسمانی نظام اور اس کے باریک ڈنک کو واضح کرتی ہے۔

قرآن مجید میں مچھر کی مثال اور جدید سائنس انکشافات: ایک حیرت انگیز مطالعہ

مؤلف : طارق اقبال سوہدروی

قرآن مجید محض عبادات کی کتاب نہیں بلکہ یہ فکر و تدبر کی دعوت دینے والی ایک زندہ و جاوید کتاب ہے۔ اس کا ہر لفظ اپنے اندر حکمتوں کے خزانے سموئے ہوئے ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنی قدرت کی نشانیاں واضح کرنے کے لیے کائنات کی بڑی سے بڑی مخلوق سے لے کر چھوٹی سے چھوٹی مخلوق تک کی مثالیں بیان کی ہیں۔ ان میں سے ایک نہایت اہم اور فکر انگیز مثال "مچھر" کی ہے، جس کا ذکر سورۃ البقرہ میں آیا ہے۔ چودہ سو سال پہلے دی گئی یہ مثال آج کے جدید سائنسی دور میں کس طرح ایک نئے معجزاتی پہلو کے ساتھ سامنے آتی ہے، یہ جاننا ایمان میں اضافے کا باعث ہے۔

قرآنی پس منظر: مثال کیوں دی گئی؟

جب قرآن مجید میں مکڑی اور مکھی جیسی حقیر سمجھی جانے والی مخلوقات کی مثالیں بیان ہوئیں تو کفار اور منافقین نے اعتراض کیا کہ اللہ جیسی عظیم ذات کا کیا کام کہ وہ ایسی چھوٹی اور بے وقعت چیزوں کا تذکرہ اپنی کتاب میں کرے؟ ان کے نزدیک یہ رب کی شان کے خلاف تھا۔

اس اعتراض کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 26 نازل فرمائی:

إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَن يَضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا...

ترجمہ: "یقیناً اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ کوئی مثال بیان کرے، مچھر کی ہو یا (ایسی چیز کی) جو اس سے بھی بڑھ کر (چھوٹی یا اس کے اوپر) ہو۔" — (سورۃ البقرہ: 26)

اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا کہ مخلوق چھوٹی ہو یا بڑی، اس کی تخلیق میں خالق کی کاریگری اور حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ کوئی بھی چیز اتنی حقیر نہیں کہ خالق اسے بطور مثال پیش کرنے میں عار محسوس کرے۔

مچھر: جدید سائنس کی نظر میں ایک پیچیدہ مشین

عام انسان کی نظر میں مچھر ایک معمولی، بلکہ تکلیف دہ کیڑا ہے جسے مار کر پھینک دیا جاتا ہے۔ لیکن جدید سائنس، خاص طور پر اینٹومولوجی (Entomology - حشرات کا علم) اور مائیکرو بیالوجی نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ ننھی سی مخلوق اللہ کی تخلیق کا ایک شاہکار ہے۔

پیچیدہ جسمانی نظام: ایک مچھر، جس کا وزن بمشکل چند ملی گرام ہوتا ہے، اس کے اندر وہ تمام پیچیدہ نظام موجود ہیں جو بڑے جانوروں میں ہوتے ہیں۔ اس کا اپنا ہاضمے کا نظام، اعصابی نظام (Nervous System)، دورانِ خون کا نظام اور تولیدی نظام ہے۔ اتنی مختصر سی جگہ میں ان تمام سسٹمز کا کامل انداز میں کام کرنا بذاتِ خود ایک معجزہ ہے۔

جدید ترین سینسرز: مچھر کو اپنا شکار تلاش کرنے کے لیے آنکھوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اللہ نے اسے جدید ترین تھرمل سینسرز (حرارت محسوس کرنے والے آلات) اور کیمیائی ڈٹیکٹرز عطا کیے ہیں۔ یہ اندھیرے میں بھی انسان کے جسم سے نکلنے والی حرارت اور سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) کو کئی فٹ دور سے محسوس کر لیتا ہے۔

کاٹنے کا جدید ترین میکانزم (Surgical Toolkit): ہم سمجھتے ہیں کہ مچھر سوئی کی طرح ایک ڈنک چبھو کر خون پیتا ہے، لیکن سائنس بتاتی ہے کہ یہ اتنا سادہ نہیں ہے۔ مادہ مچھر کا ڈنک (Proboscis) درحقیقت چھ انتہائی باریک بلیڈز اور نالیوں پر مشتمل ایک مکمل "سرجیکل ٹول کٹ" ہے:

  • دو بلیڈز جلد کو چیرتے ہیں۔
  • دو بلیڈز ٹشوز کو ہٹا کر راستہ بناتے ہیں۔
  • ایک نالی سے وہ اپنا لعاب (Saliva) داخل کرتی ہے جو فوری طور پر اس جگہ کو سن (Anesthetize) کر دیتا ہے تاکہ انسان کو درد محسوس نہ ہو، اور ساتھ ہی خون کو جمنے سے روکتا ہے (Anti-coagulant)۔
  • آخری نالی سے وہ خون چوستی ہے۔

یہ سارا عمل چند سیکنڈز میں اتنی مہارت سے ہوتا ہے کہ ہمیں خبر بھی نہیں ہوتی۔

"فَمَا فَوْقَهَا" (جو اس کے اوپر ہے) کا سائنسی مفہوم

آیت کا سب سے حیران کن حصہ وہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "مچھر کی مثال ہو یا جو اس کے اوپر ہے۔" عربی میں "فَوقَ" کا مطلب "اوپر" بھی ہوتا ہے اور "اس سے بڑھ کر" (یعنی اس سے بھی چھوٹی چیز) بھی۔ جدید سائنس نے ان دونوں مفہومات کو حیرت انگیز طور پر اجاگر کیا ہے:

 

الیکٹران مائیکروسکوپک تصویر جس میں مچھر کی پیٹھ پر سوار اس سے بھی چھوٹے طفیلی کیڑے نظر آ رہے ہیں۔

مچھر سے چھوٹی مخلوق (مائیکروسکوپک دنیا): آج ہم جانتے ہیں کہ مچھر ملیریا، ڈینگی اور زیکا جیسے امراض پھیلاتا ہے۔ یہ بیماریاں دراصل ان جراثیموں (Bacteria/Viruses/Parasites) کی وجہ سے ہوتی ہیں جو مچھر کے اندر موجود ہوتے ہیں۔ مثلاً ملیریا کا پیراسائٹ (Plasmodium) مچھر کے مقابلے میں ہزاروں گنا چھوٹا ہے لیکن اس کے پیٹ میں پرورش پاتا ہے۔ 1400 سال پہلے جب مائیکروسکوپ کا وجود نہیں تھا، قرآن نے اس چھوٹی مخلوق کے اندر اس سے بھی چھوٹی اور پیچیدہ دنیا کی طرف اشارہ کر دیا۔

مچھر کے جسم کے "اوپر" موجود مخلوق: یہ مفہوم اور بھی زیادہ دنگ کر دینے والا ہے۔ جدید الیکٹران مائیکروسکوپ (Electron Microscope) کی مدد سے لی گئی تصاویر نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ ان تصاویر میں واضح طور پر دیکھا گیا ہے کہ مچھر کے جسم کے اوپر بھی اس سے کہیں چھوٹی مخلوقات (مثلاً مختلف اقسام کے Mites یا طفیلی کیڑے) رہائش پذیر ہوتی ہیں اور اسی پر پلتی ہیں۔

جب ہم قرآن کے الفاظ "مچھر... یا جو اس کے اوپر ہے" پڑھتے ہیں اور پھر مائیکروسکوپ سے لی گئی ان تصاویر کو دیکھتے ہیں جن میں مچھر کی پیٹھ پر دوسری ننھی مخلوقات سوار ہیں، تو بے اختیار زبان سے نکلتا ہے کہ یہ کلام واقعی اس ذات کا ہے جو ظاہر و باطن اور چھوٹی سے چھوٹی چیز کا علم رکھنے والی ہے۔

نتیجہ

مچھر کی قرآنی مثال ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ کائنات میں کوئی بھی چیز بے مقصد یا حقیر نہیں ہے۔ جس مخلوق کو انسان اپنی کم علمی کی وجہ سے معمولی سمجھتا ہے، وہ خالق کی قدرت کا ایک عظیم نمونہ ہو سکتی ہے۔ جدید سائنس آج مچھر کی پیچیدہ ساخت اور اس کے اوپر اور اندر موجود دنیا کو دریافت کر کے درحقیقت قرآن مجید کی حقانیت اور اس کی آیات میں چھپی گہری حکمتوں کی گواہی دے رہی ہے۔ اہل ایمان کے لیے یہ مثالیں ہدایت اور یقین میں اضافے کا باعث بنتی ہیں، جبکہ منکرین کے لیے یہ محض بحث کا موضوع رہ جاتی ہیں۔ جیسا کہ اسی آیت کے آخر میں اللہ فرماتا ہے: "اس مثال سے وہ بہت سوں کو گمراہی میں ڈالتا ہے اور بہت سوں کو ہدایت بخشتا ہے۔"


حوالہ جات (References):

  • قرآنِ مجید، سورۃ البقرہ، آیت 26۔
  • National Geographic: "The Complex Surgical Toolkit of the Mosquito".
  • Science Daily: "Microscopic Parasites living on Insects: The World of Mites".

#قرآن #سائنس #اسلام #مچھر_کی_مثال #قرآنی_معجزات #ایمان #اللہ_کی_قدرت #جدید_سائنس #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #سورۃ_البقرہ #اعجاز_قرآن #QuranAndScience #MiraclesOfQuran #SubhanAllah #IslamFacts #MosquitoMiracle

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال