مؤلف : طارق اقبال سوہدروی
معراجِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور جدید سائنس: ایک تفصیلی تقابلی و تحقیقی جائزہ
مقدمہ
واقعہ معراج (Ascension) نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا سب سے حیران کن اور مافوق الفطرت واقعہ ہے۔ یہ صرف ایک سفر نہیں تھا، بلکہ یہ خالق اور مخلوق کے درمیان قربت کی انتہا، کائنات کے سربستہ رازوں کا مشاہدہ، اور زمان و مکان (Time and Space) کی قید سے آزادی کا ایک عملی مظاہرہ تھا۔
صدیوں سے یہ واقعہ مادیت پرست ذہنوں (Materialistic minds) کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ ایک رات کے قلیل حصے میں مکہ سے بیت المقدس، وہاں سے ساتوں آسمانوں کا سفر، انبیاء سے ملاقاتیں، جنت و دوزخ کا مشاہدہ اور سدرۃ المنتہیٰ پر ربِ کائنات سے ہم کلامی، اور پھر اسی رات واپس بستر پر آنا کہ بستر کی گرمی بھی ابھی باقی ہو—یہ سب انسانی عقل کے پیمانوں میں کیسے سما سکتا ہے؟
آج ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں، جہاں سائنس نے کائنات کے ایسے رازوں سے پردہ اٹھایا ہے جو کل تک جادو یا ناممکن سمجھے جاتے تھے۔ اس طویل مضمون میں ہمارا مقصد معراج کو سائنس سے "ثابت" کرنا نہیں ہے (کیونکہ معجزہ سائنس سے ماورا ہوتا ہے)، بلکہ یہ دکھانا ہے کہ آج کی جدید سائنسی تحقیقات کس طرح معراج کے تصور کو انسانی عقل کے لیے قابلِ قبول بناتی ہیں اور امکانات کے نئے دروازے کھولتی ہیں۔
حصہ اول: معراج کی بنیادی حقیقت (اسلامی نقطہ نظر)
اس سے پہلے کہ ہم سائنس کی طرف بڑھیں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلام اس واقعے کو کیسے پیش کرتا ہے۔
1. اسراء اور معراج: دو مراحل
یہ سفر دو حصوں پر مشتمل تھا:
اسراء (The Night Journey): مسجد حرام (مکہ) سے مسجد اقصیٰ (یروشلم/بیت المقدس) تک کا زمینی سفر۔ قرآن میں سورۃ الاسراء کی پہلی آیت اس کی تصدیق کرتی ہے:
سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى...
"پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی..." — [سورۃ الاسراء: 1] [1]
معراج (The Ascension): مسجد اقصیٰ سے آسمانوں، سدرۃ المنتہیٰ اور قربِ الٰہی تک کا سفر۔ اس کا ذکر سورۃ النجم میں اشارتاً اور احادیثِ متواترہ میں تفصیلاً موجود ہے۔
2. جسمانی یا روحانی سفر؟
جمہور علماءِ اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ یہ سفر "بجسدِ عنصری" (Physical Body) یعنی روح اور جسم دونوں کے ساتھ، اور حالتِ بیداری میں پیش آیا۔ اگر یہ صرف خواب یا روحانی سفر ہوتا تو کفارِ مکہ اس قدر ہنگامہ نہ کرتے، کیونکہ خواب میں تو کوئی بھی کہیں جا سکتا ہے۔ معجزہ اسی بات میں ہے کہ یہ جسمانی سفر تھا۔
3. بنیادی اصول: قدرتِ خداوندی
جب ہم معراج اور سائنس پر بات کرتے ہیں، تو سب سے بنیادی نقطہ یہ ذہن نشین رہنا چاہیے کہ یہ واقعہ "قوانینِ فطرت" (Laws of Nature) کے تحت نہیں ہوا، بلکہ "خالقِ فطرت" کی براہِ راست قدرت سے ہوا۔ سائنس قوانینِ فطرت کا مطالعہ کرتی ہے، جبکہ معجزہ ان قوانین کو توڑنے کا نام ہے۔
جس خدا نے آگ میں جلانے کی صفت رکھی ہے، وہ ابراہیمؑ کے لیے اسے گلزار بھی بنا سکتا ہے۔ اسی طرح، جس خدا نے زمان و مکان کے قوانین بنائے ہیں، وہ اپنے محبوبﷺ کے لیے ان قوانین کو معطل (Suspend) یا تبدیل بھی کر سکتا ہے۔
حصہ دوم: معراج اور جدید سائنسی نظریات (تقابلی جائزہ)
جب ہم جدید فزکس (Physics)، کوانٹم میکانکس (Quantum Mechanics) اور کاسمولوجی (Cosmology) کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں ایسے کئی نظریات ملتے ہیں جو معراج کے واقعے کو سمجھنے میں ہماری عقل کی مدد کرتے ہیں۔
ہم اس سفر کے مختلف پہلوؤں کا سائنسی تجزیہ کریں گے:
1. رفتار کا مسئلہ اور "بُراق" (The Question of Speed and Buraq)
سب سے پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ اتنا طویل فاصلہ (مکہ سے یروشلم تقریباً 1200 کلومیٹر، اور پھر زمین سے کائنات کی وسعتوں کا سفر) چند لمحوں میں کیسے طے ہوا؟
سائنسی تناظر: روشنی کی رفتار (Speed of Light)
جدید سائنس کے مطابق، کائنات میں سب سے تیز رفتار چیز "روشنی" (Light) ہے۔ روشنی کی رفتار تقریباً 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ (299,792,458 m/s) ہے۔
اگر کوئی چیز روشنی کی رفتار سے سفر کرے، تو وہ مکہ سے بیت المقدس کا فاصلہ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں طے کر لے گی۔ ہماری کہکشاں (Milky Way) کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جانے میں روشنی کو ایک لاکھ سال لگتے ہیں۔ لیکن اگر رفتار روشنی سے بھی کئی گنا زیادہ ہو جائے، تو یہ فاصلہ بھی سمٹ جاتا ہے۔
بُراق کا تصور
حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریمﷺ نے یہ سفر "بُراق" نامی سواری پر کیا۔ لفظ "بُراق" عربی لفظ "بَرْق" سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے "بجلی" (Lightning) یا "روشنی"۔ یہ نام خود اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ سواری گوشت پوست کا عام جانور نہیں تھا، بلکہ ایک نوری یا توانائی (Energy) پر مبنی سواری تھی جس کی رفتار کم از کم روشنی کی رفتار یا اس سے بھی زیادہ تھی۔ اگر آج انسان آواز کی رفتار سے تیز طیارے (Supersonic Jets) بنا سکتا ہے، تو کیا خالقِ کائنات اپنے محبوب کے لیے روشنی کی رفتار والی سواری نہیں بھیج سکتا؟
2. زمان و مکان کا سمٹ جانا: طی الزمان و المکان (Folding of Time and Space)
معراج کا سب سے پیچیدہ پہلو "وقت" (Time) ہے۔ نبی کریمﷺ نے 27 سالوں کے برابر واقعات کا مشاہدہ کیا (مختلف روایات کے مطابق)، لیکن جب واپس آئے تو زمین پر شاید چند لمحے ہی گزرے تھے۔ اسے اسلامی اصطلاح میں "طی الزمان" (Folding of Time) کہتے ہیں۔
سائنس اس مظہر کو کیسے دیکھتی ہے؟
الف: آئن اسٹائن کا نظریہ اضافیت (Einstein's Theory of Relativity)
یہ معراج کو سمجھنے کے لیے سب سے اہم سائنسی نظریہ ہے۔ بیسویں صدی سے پہلے "وقت" کو ایک مطلق (Absolute) چیز سمجھا جاتا تھا، یعنی ہر جگہ وقت کی رفتار ایک جیسی ہے۔ لیکن البرٹ آئن اسٹائن نے ثابت کیا کہ وقت مطلق نہیں بلکہ اضافی (Relative) ہے۔ [2]
آئن اسٹائن کے دو اہم اصول ہیں:
- رفتار اور وقت (Time Dilation): آپ جتنی تیز رفتار سے سفر کریں گے، آپ کے لیے وقت اتنا ہی آہستہ گزرے گا۔ اگر کوئی شخص روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرے، تو اس کے لیے گزرنے والے چند منٹ، زمین پر رہنے والوں کے لیے کئی سالوں کے برابر ہو سکتے ہیں۔ اگر کوئی مکمل طور پر روشنی کی رفتار پر پہنچ جائے، تو اس کے لیے "وقت تھم جاتا ہے" (Time stops)۔
- کشش ثقل اور وقت (Gravitational Time Dilation): جہاں کشش ثقل (Gravity) بہت زیادہ ہوتی ہے (جیسے بلیک ہول کے قریب)، وہاں بھی وقت سست ہو جاتا ہے۔
معراج پر اطلاق: جب نبی کریمﷺ بُراق پر (جو کہ نوری رفتار یا اس سے تیز تھی) سفر کر رہے تھے، تو نظریۂ اضافیت کے مطابق، ان کے لیے زمین کا وقت تقریباً تھم گیا تھا۔ وہ اپنے ٹائم فریم (Time Frame) میں طویل مشاہدات کر رہے تھے، لیکن زمینی ٹائم فریم میں وہ سب کچھ ایک لمحے میں ہو رہا تھا۔
ب: ورم ہولز (Wormholes) / طی المکان
جنرل ریلیٹیویٹی (General Relativity) کا ایک اور نظریہ "ورم ہولز" کا ہے۔ یہ کائنات میں موجود ایسے فرضی راستے یا سرنگیں ہیں جو زمان و مکان کی چادر کو موڑ کر دو انتہائی دور دراز مقامات کو آپس میں ملا دیتی ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کے لیے کائنات کے راستے (ورم ہولز کی طرح) سمیٹ دیے ہوں، جسے "طی المکان" کہا جاتا ہے۔
3. سات آسمان اور ابعادِ عالیہ (Higher Dimensions)
معراج میں سات آسمانوں کے سفر کا ذکر ہے۔ یہ آسمان کہاں ہیں؟ کیا یہ ہماری نظر آنے والی کائنات کا حصہ ہیں؟
سائنسی تناظر: ملٹی ورس اور اسٹرنگ تھیوری (Multiverse and String Theory)
جدید فزکس، خاص طور پر "اسٹرنگ تھیوری"، ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری کائنات صرف تین ابعاد (3 Dimensions: لمبائی، چوڑائی، اونچائی) اور چوتھے بُعد (وقت) پر مشتمل نہیں ہے، بلکہ اس کے علاوہ بھی "اضافی ابعاد" (Higher Dimensions) موجود ہو سکتے ہیں۔ بعض نظریات کے مطابق 10، 11 یا اس سے بھی زیادہ ابعاد ہو سکتے ہیں۔ یہ اضافی ابعاد ہماری نظروں سے اوجھل ہیں، لیکن وہ ہمارے ساتھ ہی موجود ہو سکتے ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ "سات آسمان" درحقیقت کائنات کے وہ "اعلیٰ ابعاد" (Higher Dimensions) یا "متوازی کائناتیں" (Parallel Universes) ہوں جو عام انسانی حواس سے ماورا ہیں، لیکن معراج کی رات نبی کریمﷺ کو ان ابعاد کی سیر کرائی گئی۔ ہر آسمان ایک الگ بُعد یا کائنات کی نمائندگی کرتا ہو۔ [3]
4. جسمانی سفر کے چیلنجز اور شرحِ صدر (Challenges of Physical Travel and Sharh-e-Sadr)
سائنس دان یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ایک انسانی جسم خلا (Space) کے سخت ماحول کو کیسے برداشت کر سکتا ہے؟
- آکسیجن کی عدم موجودگی۔
- انتہائی درجہ حرارت (سردی/گرمی)۔
- تابکار شعاعیں (Cosmic Radiation)۔
- انتہائی تیز رفتاری سے پیدا ہونے والا دباؤ (G-Force)۔
اسلامی و سائنسی جواب: اسلامی روایات میں اس کا جواب سفر سے پہلے ہونے والے واقعہ "شقِ صدر" (سینے کا چاک کیا جانا) میں ملتا ہے۔ معراج سے قبل فرشتوں نے نبی کریمﷺ کا سینہ مبارک چاک کیا، قلبِ اطہر کو زمزم سے دھویا اور اسے ایمان و حکمت سے بھر دیا۔ اگر ہم اسے سائنسی نگاہ سے دیکھیں تو یہ ایک قسم کی "الٰہی سرجری" (Divine Surgery) یا "جسمانی تبدیلی" (Physiological Modification) تھی، جس نے نبی کریمﷺ کے جسدِ اطہر کو اس مافوق الفطرت سفر کے لیے تیار کیا۔ ان کے جسم کو ایسی صلاحیت عطا کی گئی کہ وہ خلا کے دباؤ، تابکاری اور روشنی کی رفتار کو برداشت کر سکے۔
5. ٹیلی پورٹیشن (Teleportation) / آنی منتقلی
آج کل کوانٹم فزکس میں "ٹیلی پورٹیشن" پر تحقیق ہو رہی ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس میں کسی چیز کو ایک جگہ غائب (De-materialize) کرکے دوسری جگہ فوراً ظاہر (Re-materialize) کیا جاتا ہے۔ اگرچہ ابھی تک صرف ایٹم کی سطح پر معلومات (Information) کی ٹیلی پورٹیشن ممکن ہوئی ہے، لیکن سائنس دان مانتے ہیں کہ نظریاتی طور پر یہ ممکن ہے۔ یہ نظریہ اس بات کو تقویت دیتا ہے کہ "آنی منتقلی" (Instant Transportation) کائنات کے قوانین میں ناممکنات میں سے نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ، جو مادے (Matter) اور توانائی (Energy) کا خالق ہے، اپنے نبی کے جسمِ اطہر کو پلک جھپکنے میں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے پر قادر ہے۔
حصہ سوم: وہاں کیا ہوا؟ (مشاہداتِ معراج)
معراج کا مقصد صرف سفر نہیں تھا، بلکہ وہ عظیم مشاہدات تھے جو وہاں ہوئے۔
- انبیاء سے ملاقات: بیت المقدس میں تمام انبیاء کی امامت اور پھر مختلف آسمانوں پر ان سے ملاقاتیں۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ تمام انبیاء کا مشن ایک تھا اور نبی کریمﷺ ان سب کے سردار ہیں۔ یہ عالمِ ارواح اور عالمِ اجسام کا ایک حسین ملاپ تھا۔
- جنت و دوزخ کا مشاہدہ: آپﷺ کو اعمال کی جزا اور سزا کے مناظر دکھائے گئے، تاکہ آپ امت کو یقینِ کامل (عین الیقین) کے ساتھ آگاہ کر سکیں۔
- سدرۃ المنتہیٰ اور قربِ الٰہی: یہ سفر کا نقطہ عروج تھا۔ سدرۃ المنتہیٰ (بیری کا وہ درخت جو مخلوق کی رسائی کی آخری حد ہے)۔ یہاں حضرت جبرائیلؑ بھی رک گئے کہ اس سے آگے بڑھوں تو میرے پر جلتے ہیں۔ یہاں نبی کریمﷺ نے اپنے رب سے براہِ راست، بلاواسطہ کلام کیا اور دیدارِ الٰہی سے مشرف ہوئے (دیدار کی نوعیت پر علماء میں اختلاف ہے، لیکن قربتِ خاص پر اتفاق ہے)۔ یہاں نماز کا تحفہ ملا جو مومن کی معراج ہے۔
نتیجہ اور خلاصہ کلام
معراج مصطفیﷺ اور سائنس کے اس تفصیلی تقابلی جائزے کے بعد ہم درج ذیل نتائج پر پہنچتے ہیں:
معجزہ بمقابلہ سائنس: معراج بنیادی طور پر ایک "معجزہ" ہے جو اللہ کی براہِ راست قدرت سے ظہور پذیر ہوا۔ سائنس اس واقعے کی "وجہ" نہیں بتا سکتی، لیکن یہ بتا سکتی ہے کہ یہ "کیسے ممکن ہو سکتا ہے"۔
عقل سے ماورا، عقل کے خلاف نہیں: یہ واقعہ "عقل کے خلاف" (Irrational) نہیں ہے، بلکہ "عقل سے ماورا" (Supra-rational) ہے۔ یعنی انسانی عقل ابھی وہاں تک نہیں پہنچی، لیکن اسے ناممکن نہیں کہہ سکتی۔
سائنس کی پیشرفت اور ایمان: حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جوں جوں سائنس ترقی کر رہی ہے، معراج پر ایمان لانا عقل کے لیے آسان ہوتا جا رہا ہے۔ کل تک جو باتیں (جنے وقت کا تھم جانا، روشنی کی رفتار سے سفر، دوسری دنیائیں) افسانہ لگتی تھیں، آج جدید فزکس انہیں نظریاتی طور پر ممکن مانتی ہے۔ نظریہ اضافیت نے "طی الزمان" کو سمجھنا آسان کیا۔ اسٹرنگ تھیوری نے "سات آسمانوں" (Higher Dimensions) کا تصور دیا۔ کوانٹم فزکس نے آنی منتقلی کے امکانات دکھائے۔
حتمی بات: معراج کا واقعہ انسان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اس کائنات کی حقیقت صرف مادی نہیں ہے، بلکہ اس سے آگے بھی جہان ہیں۔ سائنس آج گھٹنوں کے بل چلتے ہوئے کائنات کے جن رازوں کو دریافت کر رہی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے چشمِ خود ان کا مشاہدہ کیا اور ان سے گزر کر اپنے رب تک پہنچے۔ یہ واقعہ سائنس کی عاجزی اور خالق کی لامحدود قدرت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
حوالہ جات:
[1] القرآن الکریم، سورۃ الاسراء، آیت: 1[2] البرٹ آئن سٹائن، نظریہ اضافیت (Theory of Relativity)، وقت اور کششِ ثقل کے اثرات
[3] جدید کوانٹم فزکس اور اسٹرنگ تھیوری کے تحت کائناتی ابعاد کا تصور
#MirajUnNabi #ScienceAndIslam #EinsteinRelativity #QuantumPhysics #IslamicResearch #MiraclesOfProphet #SpaceTravel #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #واقعہ_معراج #سائنس_اور_اسلام #معجزہ_معراج #علمی_تحقیق #عظمت_مصطفی
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

