⚛️
📖

سائنس قرآن کے حضور میں

جدید سائنسی دریافتیں، قرآنی معجزات کی تصدیق

ایڈمن: طارق اقبال سوہدروی

کیا ہماری کائنات اکلوتی ہے؟ ملٹی ورس (Multiverse) کا نظریہ اور "رَبِّ الْعَالَمِين" کی لامتناہی وسعت: ایک عمیق سائنسی و قرآنی مطالعہ

 
ایک وسیع کائناتی منظر جس میں متعدد کائناتوں کو بلبلوں کی طرح تیرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو ملٹی ورس کے تصور کی عکاسی کرتا ہے


مؤلف : طارق اقبال سوہدروی

کیا ہماری کائنات اکلوتی ہے؟ ملٹی ورس (Multiverse) کا نظریہ اور "رَبِّ الْعَالَمِين" کی لامتناہی وسعت: ایک عمیق سائنسی و قرآنی مطالعہ

انسانی فہم و ادراک کے سفر میں سب سے بڑی تبدیلی کائنات کی وسعتوں کو سمجھنے میں آئی ہے۔ صدیوں تک انسانیت اس محدود تصور میں قید رہی کہ ہماری زمین ہی کائنات کا مرکز ہے، لیکن جیسے جیسے علم کی شمع روشن ہوئی، مادی کائنات کے ایسے ہوش ربا اعداد و شمار سامنے آئے جنہوں نے انسانی عقل کو حیرت کے سمندر میں غرق کر دیا۔ اگر ہم صرف اپنی "قابلِ مشاہدہ کائنات" (Observable Universe) کی بات کریں، تو جدید فلکیات کے مطابق اس کا قطر تقریباً 93 ارب نوری سال (93 Billion Light Years) ہے۔ ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے، اور روشنی کی رفتار 299,792 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ اس حساب سے ہماری ایک کائنات میں کہکشاؤں کی تعداد 2000 ارب (2 Trillion) سے زائد ہے، اور ہر کہکشاں میں اوسطاً 100 ارب سے 400 ارب ستارے موجود ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف اس کائنات کے ہیں جسے ہم دیکھ سکتے ہیں، لیکن جدید کاسمولوجی (Cosmology) اور سٹرنگ تھیوری (String Theory) اب اس سے بھی کروڑوں گنا بڑی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہیں، جسے "ملٹی ورس" (Multiverse) کہا جاتا ہے۔ ملٹی ورس کا نظریہ یہ کہتا ہے کہ ہماری یہ پوری عظیم الشان کائنات، جس میں کھربوں کہکشائیں ہیں، شاید وجود کے ایک لامتناہی سمندر میں تیرتے ہوئے پانی کے ایک چھوٹے سے "بلبلے" کی طرح ہے، اور اس سمندر میں ایسے ان گنت بلبلے موجود ہو سکتے ہیں جن کے اپنے طبعی قوانین، اپنی جہتیں (Dimensions) اور اپنی الگ حقیقتیں ہیں۔ یہ تصور ریاضیاتی طور پر اس وقت سامنے آیا جب سائنس دانوں نے "کائناتی پھیلاؤ" (Eternal Inflation) اور کوانٹم فزکس کے الجھاؤ کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ملٹی ورس کے مختلف درجے بیان کیے جاتے ہیں؛ لیول 1 ملٹی ورس وہ ہے جہاں ہماری کائنات جیسی دیگر کائناتیں لامتناہی خلا میں بکھری ہوئی ہیں، جبکہ لیول 2 میں ایسی کائناتیں شامل ہیں جہاں فزکس کے بنیادی مستقل (Constants) بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں مادہ پرستانہ سائنس اپنے ہی مشاہدات کے بوجھ تلے دب کر ایک ایسے خالق کی طرف اشارہ کرنے پر مجبور ہو رہی ہے جس کی قدرت کا کوئی کنارہ نہیں۔

جب ہم جدید ترین سائنسی نظریات کی اس وسعت کو سامنے رکھتے ہوئے قرآنِ مجید کی پہلی ہی سطر پر غور کرتے ہیں تو عقلِ انسانی خالق کی عظمت کے سامنے سجدہ ریز ہونے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ قرآن کا آغاز ہی اللہ تعالیٰ کے اس تعارف سے ہوتا ہے جو کائناتوں کی لامتناہی وسعتوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ۝

(ترجمہ: سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔)

غور طلب نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنی صفت بیان کرتے ہوئے "رب الکائنات" (اس ایک کائنات کا رب) یا "رب السمٰوٰتِ والأرض" کا محدود لفظ استعمال کرنے کے بجائے "الْعَالَمِیْنَ" کا انتخاب فرمایا۔ عربی لغت اور نحو کے اعتبار سے "العالمین" لفظ "عالم" کی جمع ہے، اور علمائے لغت بیان کرتے ہیں کہ یہ 'جمعِ سالم' نہیں بلکہ ایک ایسی وسیع جمع ہے جو کائنات کی ہر نوع، ہر گروہ اور ہر ممکنہ جہان کو اپنے دائرے میں لے آتی ہے۔ امام قرطبیؒ اور امام ابنِ کثیرؒ جیسے جید مفسرین نے نقل کیا ہے کہ اس زمانے کے صحابہ اور تابعین بھی "العالمین" سے ہزاروں جہانوں کا مفہوم لیتے تھے۔ حضرت قتادہؒ فرماتے تھے کہ اللہ نے 80 ہزار عالم پیدا کیے ہیں، جن میں سے 40 ہزار خشکی پر اور 40 ہزار تری میں ہیں۔ چودہ سو سال پہلے جب انسان کو صرف اپنے شہر یا ملک کی خبر نہ تھی، قرآن کا "عالمین" جیسا لفظ استعمال کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ کلامِ الہیٰ کا خالق ان تمام ملٹی ورسز سے واقف ہے جن کا تصور آج کی سائنس پیش کر رہی ہے۔ "رب العالمین" کا مطلب یہ ہے کہ اللہ صرف اس کائنات کا پالنے والا نہیں ہے، بلکہ وہ ان تمام متوازی کائناتوں (Parallel Universes) کا بھی اکیلا مالک اور نگران ہے جن کے بارے میں سٹرنگ تھیوری کہتی ہے کہ کائنات کی 10 یا 11 جہتیں (Dimensions) ہو سکتی ہیں۔

سائنس کی دنیا میں "ملٹی ورس" کا تصور اس لیے پیدا ہوا کیونکہ ہماری کائنات میں زندگی کے لیے حالات اتنے باریک بینی سے متوازن (Fine-tuned) ہیں کہ اتفاق کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کائنات کے پھیلنے کی رفتار میں 10 کی طاقت 60 ($10^{60}$) کے برابر بھی فرق ہوتا، تو ستارے اور کہکشائیں کبھی بن ہی نہ پاتیں۔ اسی طرح اگر ایٹمی قوتوں (Strong Nuclear Force) میں محض 0.5 فیصد کی تبدیلی ہوتی، تو زندگی کا وجود ناممکن ہوتا۔ اس معجزاتی توازن کو دیکھ کر ملحد سائنس دانوں نے یہ مفروضہ پیش کیا کہ شاید ایسی کھربوں کائناتیں موجود ہیں اور ہم اتفاق سے اس میں موجود ہیں جہاں حالات سازگار ہیں۔ لیکن قرآنِ مجید اسی توازن (میزان) کو خالق کی قدرت کی دلیل بنا کر پیش کرتا ہے۔ سورۃ الطلاق میں ایک ایسا اشارہ ملتا ہے جو ملٹی ورس کے تصور سے حیرت انگیز مطابقت رکھتا ہے :

اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ ۝

(ترجمہ: اللہ ہی ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمینوں میں سے بھی انہی کے مانند۔)

یہاں "سات آسمانوں" کے ساتھ ساتھ "زمین کی قسم سے بھی انہی کے مانند" (یعنی سات زمینوں) کا ذکر مفسرین کے لیے ہمیشہ سے گہری تحقیق کا باعث رہا ہے۔ جدید مفسرین اور کاسمولوجی کے ماہرین کے نزدیک یہ آیت ہماری زمین جیسی دیگر زمینوں یا دیگر "پلینری سسٹم" یا متوازی جہانوں (Parallel Worlds) کی موجودگی کی طرف ایک لطیف اشارہ ہو سکتی ہے۔ یہاں "سات" کا عدد عربی میں "کثرت" (Multiplicity) کے لیے بھی آتا ہے، یعنی اللہ نے ان گنت جہان پیدا کر رکھے ہیں۔

کائنات کی اس لامتناہی وسعت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اگر ہم روشنی کی رفتار سے بھی سفر کریں، تو ہمیں اپنی کہکشاں (Milky Way) کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچنے میں 1 لاکھ نوری سال لگیں گے۔ اور اگر ہم اپنی پڑوسی کہکشاں "اینڈرومیڈا" (Andromeda) تک جانا چاہیں، تو 25 لاکھ سال درکار ہوں گے۔ یہ فاصلے اس قدر زیادہ ہیں کہ انسانی عقل انہیں مادی طور پر طے کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ قرآنِ مجید جب کہتا ہے :

فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ ۝ وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ ۝

(ترجمہ: پس میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کی منزلوں کی، اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے)

تو یہ دراصل ان ہولناک فاصلوں اور کائناتی وسعتوں کی طرف اشارہ ہے جو اللہ کی عظمت کی گواہی دے رہے ہیں۔ ملٹی ورس کا نظریہ دراصل "رب العالمین" کی صفت کی ایک سائنسی تفسیر پیش کر رہا ہے۔ اگر کل کو تجرباتی طور پر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ واقعی ہماری کائنات کے علاوہ بھی لامتناہی کائناتیں موجود ہیں، تو اس سے قرآن کی حقانیت اور بھی واضح ہو جائے گی۔ ہمیں معلوم ہوگا کہ اللہ کی ربوبیت صرف اس ایک نیلے سیارے یا اس ایک کہکشاں تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہ ان تمام ان گنت کائناتوں، بلیک ہولز، اور ہائر ڈائمنشنز کا بھی اکیلا خالق اور مدبر ہے۔

 
کہکشاؤں کے درمیان عظیم فاصلوں اور ستاروں کی منزلوں کو ظاہر کرتی ہوئی تصویر جو اللہ کی قدرت کا شاہکار ہے


ملٹی ورس کا ایک اور پہلو "کوانٹم مکینکس" کے 'مینی ورلڈز انٹرپریٹیشن' (Many-worlds interpretation) سے نکلتا ہے، جو کہتا ہے کہ ہر کوانٹم فیصلے کے ساتھ کائنات تقسیم ہو جاتی ہے۔ اگرچہ یہ ایک فلسفیانہ بحث ہے، لیکن یہ انسان کو اس کے خالق کی بے پناہ تخلیقی قوت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے :

يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ ۝

(ترجمہ: وہ اپنی تخلیق میں جو چاہتا ہے اضافہ کرتا ہے)

کائنات کا مسلسل پھیلنا (Expansion of Universe) اور اس میں نئے نئے جہانوں کا ظہور ہونا اللہ کی تخلیقی شان ہے۔ جدید سائنس کائنات کو جتنا وسیع کرتی جائے گی، خالق کی کبریائی اتنی ہی بڑھتی چلی جائے گی۔ یہ سائنسی انکشافات دراصل ہمیں اس مادی قید خانے سے باہر نکل کر اس قادرِ مطلق کی تسبیح کرنے کی دعوت دیتے ہیں جس کے علم اور قدرت کا کوئی کنارہ نہیں۔ اگر ہم 95 فیصد کائنات کو دیکھ ہی نہیں سکتے (ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کی وجہ سے)، تو ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ ہماری عقل اللہ کی پوری سلطنت کا احاطہ کرنے سے قاصر ہے۔ ملٹی ورس کا تصور ہمیں عاجزی سکھاتا ہے کہ ہم اتنی بڑی خدائی میں ایک ذرے کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتے، مگر اس کے باوجود وہ ربِ رحیم ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ "ملٹی ورس" اور "رب العالمین" کے تصورات کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف زاویے ہیں۔ سائنس مادے اور حساب و کتاب کے ذریعے اس لامتناہی نظام کی تہوں کو کھولنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ قرآن نے ہدایت اور نور کے ذریعے ہمیں اس نظام کے مالک تک پہنچانے کا راستہ دکھایا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ سائنس کے یہ جدید نظریات اگرچہ بدلتے رہتے ہیں، لیکن قرآن کے دیے ہوئے کائناتی اصول ابدی ہیں۔ "عالمین" کا رب وہ ذات ہے جس نے عدم سے کروڑوں کائناتیں پیدا کیں اور وہ ان سب کی تدبیر فرما رہا ہے۔ جتنا زیادہ ہم ان اعداد و شمار پر غور کرتے ہیں، اتنا ہی زیادہ ہمیں اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ یہ کائنات کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک عظیم ترین "مصور" کا شاہکار ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان سائنسی دریافتوں کو اپنے ایمان کی پختگی کا ذریعہ بنائیں اور جب بھی آسمان کی وسعتوں کو دیکھیں، تو بے اختیار پکار اٹھیں :

رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۝

(ترجمہ: اے ہمارے رب! تو نے یہ سب بے مقصد پیدا نہیں کیا، تو پاک ہے، پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔)

واللہ اعلم بالصواب۔


حوالہ جات:
[1] NASA: Universe Size and Structure (Observable Universe Data).
[2] The Multiverse: Level I, II, and III (By Max Tegmark).
[3] String Theory and 11 Dimensions (M-Theory by Edward Witten).
[4] تفسیر ابنِ کثیر اور معارف القرآن (سورۃ الفاتحہ اور سورۃ الطلاق)۔
[5] The Fine-Tuning of the Universe (By Luke Barnes).
#ملٹی_ورس #رب_العالمین #قرآن_اور_سائنس #کائنات_کی_وسعت #تفسیر_القرآن #جیمز_ویب #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں #طارق_اقبال_سوہدروی #Multiverse #Cosmology #FaithAndScience #ObservableUniverse

طارق اقبال سوہدروی

"الحمدللہ، انٹرنیٹ پر اردو دان طبقے میں علم و تحقیق کے فروغ کے لیے میری درج ذیل دو کاوشیں ہیں: 1۔ اردو کتب و ناولز: یہاں 7000 سے زائد مختلف کتب اور ناولز کا وسیع مجموعہ پیش کیا گیا ہے۔ 2۔ سائنس قرآن کے حضور میں: اس پلیٹ فارم کے ذریعے میں جدید سائنسی دریافتوں اور قرآنی حقائق کے درمیان حیرت انگیز مطابقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ۔"

جدید تر اس سے پرانی

نموذج الاتصال