مؤلف : طارق اقبال سوہدروی
نمرود کا عبرتناک انجام اور مچھر کی "بائیولوجیکل" جنگ: خالق کی طاقت کا ایک ادنیٰ مظہر
1. نمرود کا تکبر اور خدائی کا دعویٰ
نمرود (بادشاہِ بابل) تاریخ کا وہ پہلا جابر تھا جس نے اپنی مادی طاقت کے نشے میں خالقِ کائنات کو چیلنج کیا۔ اس کا تذکرہ قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ مناظرے کی صورت میں موجود ہے۔
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ...
ترجمہ: "کیا تم نے اس شخص (نمرود) کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا، اس بنا پر کہ اللہ نے اسے بادشاہی دی تھی؟" — (سورۃ البقرہ، آیت: 258) [1]
2. لشکرِ مچھر اور نمرود کی ہلاکت (تاریخی و تفسیری حوالہ)
جب نمرود نے اپنی فوج اور طاقت پر ناز کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اسے ایک معمولی مچھر کے ذریعے عبرت کا نشان بنایا۔
واقعہ: مچھروں کے ایک لشکر نے نمرود کی فوج پر حملہ کیا اور ایک لنگڑا مچھر نمرود کی ناک کے راستے اس کے دماغ تک جا پہنچا، جو اس کی موت کا سبب بنا۔
حوالہ: امام ابنِ کثیرؒ نے اپنی مشہور کتاب "البدایہ والنہایہ" (جلد 1، ص 316) میں نقل کیا ہے کہ نمرود 400 سال تک اس عذاب میں مبتلا رہا اور سکون کے لیے اپنے سر پر جوتے کھاتا رہا [2]۔
3. سائنسی و طبی تجزیہ (Scientific Perspective)
جدید میڈیکل سائنس کی نظر میں نمرود کی علامات اور اس کے انجام کا تجزیہ درج ذیل ہے:
الف: دماغ میں بیرونی اجسام کا داخلہ (Foreign Body in Brain)
انسانی ناک کے اندرونی حصے سے دماغ تک ایک راستہ ہوتا ہے جسے "اولفیکٹری نرو" (Olfactory Nerve) کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی جرثومہ یا چھوٹا جاندار یہاں تک پہنچ جائے تو وہ Meningoencephalitis (دماغ کی جھلیوں کی سوزش) کا سبب بنتا ہے۔
سائنسی حوالہ: طبی تحقیقات کے مطابق دماغ کی جھلیوں میں سوزش یا بیرونی دباؤ شدید ترین Neuralgia (اعصابی درد) پیدا کرتا ہے جو انسان کو دیوانہ بنا دیتا ہے۔ (Ref: Merck Manual of Diagnosis and Therapy) [3]
ب: سر پر چوٹ لگانا (Counter-Irritation Effect)
نمرود کا اپنے سر پر جوتے لگوانا آج کی نفسیاتی اور جسمانی اصطلاح میں "Counter-Irritation" کلاتا ہے۔ جب جسم میں ایک جگہ شدید درد ہو (جیسے دماغ کے اندر)، تو انسان دوسری جگہ چوٹ لگا کر اس درد کی شدت کو تقسیم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
4. آثارِ قدیمہ کی گواہی (Archaeological Evidence)
عراق میں بابل (Babylon) کے کھنڈرات اور قدیم کتبات (Inscriptions) اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ علاقہ دنیا کا پہلا تمدن تھا جہاں جابر بادشاہوں نے خدائی کے دعوے کیے۔
حوالہ: مشہور برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ سر لیونارڈ وولی (Sir Leonard Woolley) کی تحقیقات بابل کے زوال اور وہاں آنے والی آفات کی تصدیق کرتی ہیں [4]۔
حق اور سچ کا نچوڑ
نمرود کا انجام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ "سائنس" درحقیقت اللہ کے بنائے ہوئے قوانین کا مطالعہ ہے۔ اللہ نے ایک مچھر (جو کہ ایک بائیولوجیکل ایجنٹ ہے) کے ذریعے ثابت کر دیا کہ جس کے قبضے میں کائنات کی طبیعیات (Physics) اور بائیولوجی (Biology) ہے، وہی حقیقی بادشاہ ہے۔
واللہ اعلم بالصواب (اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے)۔
حوالہ جات:
[1] قرآنِ مجید، سورۃ البقرہ، آیت: 258[2] امام ابنِ کثیرؒ، "البدایہ والنہایہ"، جلد 1، ص 316
[3] Merck Manual of Diagnosis and Therapy، دماغی امراض اور اعصابی درد کی تحقیق
[4] سر لیونارڈ وولی، بابل کے آثارِ قدیمہ پر تحقیقی مطالعہ
#Nimrod #HistoryOfIslam #ScientificMiracles #QuranAndScience #BiologicalWarfare #AncientBabylon #IslamicArchaeology #TruthOfIslam #AbdulWahabResearch
مدد اور رابطہ
السلام علیکم! اگر کوئی سوال کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پیغام لکھ کر بھیج دیں۔

